لاہور: پاکستان میں رواں سال کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے شہریوں پر مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ تازہ اعدادوشمار کے مطابق سال کے آغاز سے اب تک پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 139 سے 145 روپے فی لیٹر سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق سال کے آغاز میں پیٹرول کی قیمت 253 روپے 17 پیسے فی لیٹر تھی، جو بڑھ کر 398 روپے 30 پیسے ہوگئی۔ اس طرح پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 145 روپے 13 پیسے کا اضافہ ہوا۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت سال کے آغاز میں 257 روپے 8 پیسے فی لیٹر تھی، جو بڑھ کر 396 روپے 24 پیسے تک پہنچ گئی۔ ڈیزل کی قیمت میں مجموعی اضافہ 139 روپے 16 پیسے ریکارڈ کیا گیا۔
ملک میں عالمی منڈی کی قیمتوں کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ مقرر کرنے کا نظام متعارف کرائے جانے کے بعد بھی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ جاری رہا۔
21 جولائی سے 10 اکتوبر تک پیٹرول کی قیمت میں 35 مرتبہ اضافہ اور 22 مرتبہ کمی کی گئی، جبکہ اسی عرصے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل 34 مرتبہ مہنگا اور 23 مرتبہ سستا ہوا۔
رواں سال اپریل کے آغاز میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں انتہائی بلند سطح پر بھی پہنچیں، جب پیٹرول 458 روپے 41 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک فروخت ہوا۔
دوسری جانب دستیاب سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جولائی 2025 سے مارچ 2026 تک پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً ایک کھرب 20 ارب 50 کروڑ روپے وصول کیے گئے، جبکہ اپریل 2026 تک یہ وصولیاں بڑھ کر تقریباً ایک کھرب 34 ارب 20 کروڑ روپے ہوگئیں۔
حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی سے تقریباً ایک کھرب 67 ارب 60 کروڑ روپے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف شہریوں کے سفری اخراجات بڑھتے ہیں بلکہ مال برداری، اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور کاروباری سرگرمیوں کی لاگت بھی متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔