اسلام آباد: خیبر پختونخوا کی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت نے اہم انتظامی اور آئینی اقدامات پر غور شروع کردیا ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق تجاویز زیر غور آئیں گی، جبکہ اہم انتظامی عہدوں پر تبدیلیوں کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صدر مملکت کے لیے ایڈوائس تیار کرنے کی منظوری دی جاسکتی ہے، جسے بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف صدر آصف علی زرداری کو ارسال کریں گے۔
اطلاعات کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی پہلے ہی وزیراعظم کو ایک تحریری مراسلہ بھجوا چکے ہیں، جس میں صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال کو بنیاد بناتے ہوئے ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
چیف سیکریٹری کی تبدیلی کا امکان
ذرائع کے مطابق ممکنہ انتظامی اقدامات کے تحت خیبر پختونخوا کے موجودہ چیف سیکریٹری کو تبدیل کرکے ایک نئے چیف سیکریٹری کی تعیناتی بھی زیر غور ہے، جسے صوبے کے انتظامی معاملات سنبھالنے میں اہم کردار دیا جاسکتا ہے۔
اس سلسلے میں کابینہ ڈویژن کی جانب سے متعلقہ سمری وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ دیگر اہم انتظامی افسران کے تبادلوں کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔
صدر مملکت کی منظوری اہم ہوگی
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی کابینہ گورنر راج یا ایمرجنسی سے متعلق تجاویز منظور کرتی ہے تو آئینی تقاضوں کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔
صدر مملکت کی منظوری اور ضروری قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد متعلقہ نوٹیفکیشن جاری کیا جاسکتا ہے، جس میں انتظامی تبدیلیوں اور اختیارات کی تفصیلات واضح ہوں گی۔
تاہم خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے اور چیف سیکریٹری کی تبدیلی سے متعلق ابھی کوئی حتمی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔ تمام اقدامات فی الحال تجاویز اور مشاورت کے مرحلے میں ہیں۔