آج کل اکثر لوگ کہتے ہیں:
“اب پہلے جیسے استاد نہیں رہے!”
مگر ذرا رک کر یہ بھی سوچیں کہ کیا ہم نے استاد کو پہلے جیسا رہنے دیا ہے؟
پہلے استاد کی بات کو عزت دی جاتی تھی، اس کی نصیحت کو رہنمائی سمجھا جاتا تھا، اور اس کی اصلاح کو خیر خواہی مانا جاتا تھا۔ آج حالات بدل چکے ہیں۔ طلبہ کے ہاتھ میں موبائل ہے، معلومات بہت ہیں مگر ادب کم ہوتا جا رہا ہے۔ والدین بھی اکثر اپنے بچوں کی ہر بات کا دفاع کرتے ہیں، چاہے غلطی بچے کی ہی کیوں نہ ہو۔
استاد اگر اصلاح کرے تو شکایت، سختی کرے تو اعتراض، نمبر کم دے تو ناراضی۔ ایسے ماحول میں استاد تعلیم کے ساتھ ساتھ خود کو بچانے کی کوشش بھی کرتا رہتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک اچھا استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا، بلکہ کردار بناتا ہے، اخلاق سکھاتا ہے اور زندگی گزارنے کا سلیقہ دیتا ہے۔ لیکن جب استاد کی عزت، اختیار اور تحفظ کمزور کر دیا جائے تو تربیت کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔
متعلقہ پوسٹس
والدین، اساتذہ اور معاشرہ اگر مل کر بچوں کی تربیت کریں تو بہترین نسل پروان چڑھ سکتی ہے۔ لیکن اگر ہم استاد کی قدر کھو دیں تو آنے والی نسلیں بھی اس کا نقصان اٹھائیں گی۔
✨ یاد رکھیں!
“جس قوم کے اساتذہ عزت پاتے ہیں، وہ قوم ترقی پاتی ہے۔”
“اور جہاں استاد کی عزت ختم ہو جائے، وہاں علم اور اخلاق دونوں کمزور پڑ جاتے ہیں۔”
اللہ تعالیٰ ہمارے اساتذہ کی قدر کرنے، ان کا احترام کرنے اور ان کے مقام کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
