اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ سے روایتی میڈیا کے ملازمین کا روزگار متاثر نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اخبارات اور ٹی وی چینلز کی مضبوطی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اشتہارات کی پالیسی بھی اسی مقصد کے تحت ترتیب دی جا رہی ہے۔
یہ بات انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے اجلاس میں کہی، جس کی صدارت سینیٹر سرمد علی نے کی۔ اجلاس میں سوشل میڈیا اشتہارات، میڈیا پالیسی، پی ٹی وی، فلم سینسر بورڈ اور دیگر امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
عطا اللہ تارڑ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا سے متعلق پالیسی 2021 میں متعارف کرائی گئی تھی، جس میں 2022 کے دوران ترامیم کی گئیں، جبکہ ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2024 کے تحت گوگل اینالیٹکس، ویب میٹرکس اور تھرڈ پارٹی ویریفکیشن کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ اشتہارات کی تقسیم شفاف انداز میں ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صرف ضرورت کے مطابق اشتہارات جاری کرتی ہے، تاہم اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ میڈیا ادارے اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود کا بھی خیال رکھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک نجی نیوز چینل کی جانب سے ملازمین کو فارغ کیے جانے پر حکومت نے اس کے اشتہارات روک دیے تھے، جس کے بعد متعدد ملازمین کو دوبارہ بحال کر دیا گیا۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت اور پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (PBA) کے درمیان اس بات پر اتفاق ہے کہ حکومتی واجبات کی ادائیگی کے بعد میڈیا ہاؤسز بھی اپنے ملازمین کے بقایا جات ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ سوشل میڈیا تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، لیکن اس کا بنیادی مواد اب بھی اخبارات اور ٹی وی چینلز سے ہی حاصل ہوتا ہے، اس لیے روایتی میڈیا کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سب سے پہلا حق اخبارات کے اپنے ڈیجیٹل ایڈیشنز کا ہونا چاہیے۔
اجلاس میں آئی ٹی این ای کے چیئرمین کی تقرری پر بھی گفتگو ہوئی، جس پر عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ تمام معاملات طے پا چکے ہیں اور جلد اس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران فلم “بلھے شاہ” کے نام پر بھی بحث ہوئی۔ سینیٹر پرویز رشید نے اعتراض اٹھایا کہ تاریخی اور روحانی شخصیت کے نام کو ایک ایسی فلم کے لیے استعمال کیا گیا جس میں بندوق بردار کردار دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا، جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس معاملے کا جائزہ لیا جائے گا اور سینسر بورڈ سے بھی وضاحت طلب کی جائے گی۔
پی ٹی وی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ قومی نشریاتی ادارہ پہلی مرتبہ مالی طور پر مستحکم ہوا ہے۔ ان کے مطابق فیفا ورلڈ کپ کی نشریات اس وقت صرف پی ٹی وی اسپورٹس پر دکھائی جا رہی ہیں، جبکہ ادارے میں ملازمین کو گزشتہ ایک سال کے دوران بروقت تنخواہیں ادا کی گئی ہیں۔
سیکریٹری اطلاعات نے کمیٹی کو بتایا کہ مالی سال کے دوران پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان اور اے پی پی کے پنشنرز اور ملازمین کی ادائیگیوں میں بہتری آئی ہے، جبکہ ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کی املاک سے آمدن بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کمیٹی نے اے پی پی اور ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مسائل کے حل سے متعلق تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی۔
Prev Post