Tameerewatan
tameerewatan

کافی پینے والوں کے لیے بری خبر، ماہرین کی بڑی وارننگ جاری

ویب ڈیسک: ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ کافی پینے کی عادت جگر سے متعلق متعدد بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف اس تحقیق کی بنیاد پر زیادہ مقدار میں کافی پینا شروع کرنے کا مشورہ نہیں دیا جا سکتا۔

معروف طبی جریدے Clinical Gastroenterology and Hepatology میں شائع ہونے والی تحقیق میں برطانیہ کے بائیو بینک پروگرام سے وابستہ تقریباً 3 لاکھ 55 ہزار بالغ افراد کے طبی ریکارڈز کا دس سال سے زائد عرصے تک جائزہ لیا گیا۔ اس دوران شرکاء کی کافی پینے کی عادات، جگر کے اسکین، خون کے مختلف حیاتیاتی اشاریوں اور دیگر طبی معلومات کا تجزیہ کیا گیا۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق روزانہ پانچ یا اس سے زیادہ کپ بلیک کافی پینے والے افراد میں جگر کے سکڑنے (سیروسس) کا خطرہ 32 فیصد، جگر کے سرطان کا امکان 47 فیصد اور جگر سے متعلق اموات کا خطرہ 42 فیصد تک کم دیکھا گیا۔ اگرچہ روزانہ ایک سے دو کپ کافی پینے والوں میں بھی مثبت اثرات سامنے آئے، تاہم زیادہ کافی استعمال کرنے والوں میں نتائج نسبتاً بہتر رہے۔

تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر ہیون سوک کم کے مطابق جگر کی تصاویر، حیاتیاتی اشاریوں اور طبی نتائج کے مشترکہ تجزیے سے کافی کے استعمال اور بہتر جگر کی صحت کے درمیان مضبوط تعلق سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کافی میں موجود قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس اور نباتاتی مرکبات جسم میں سوزش کم کرنے، خلیات کو نقصان سے بچانے اور جگر میں چکنائی جمع ہونے کے عمل کو محدود کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ عام اور بغیر کیفین والی کافی، دونوں کے حفاظتی فوائد تقریباً یکساں تھے۔

تحقیق کے مطابق کافی میں زیادہ چینی یا مصنوعی مٹھاس شامل کرنے سے اس کے بعض فوائد کم ہو سکتے ہیں، اس لیے کم یا بغیر چینی والی کافی نسبتاً بہتر انتخاب سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین نے واضح کیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے یہ حتمی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ کافی براہِ راست جگر کی بیماریوں یا سرطان سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو افراد کافی پینے کے عادی نہیں ہیں، انہیں صرف جگر کی صحت کے لیے روزانہ پانچ کپ کافی پینا شروع کرنے کا مشورہ نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ زیادہ کیفین بعض افراد میں بے چینی، نیند کی خرابی، دل کی دھڑکن تیز ہونے اور معدے کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More