Tameerewatan
tameerewatan

زیارت دھرنا کمیٹی نے حکومت کو آٹھ نکاتی مطالبات پیش کر دیے

زیارت دھرنا کمیٹی نے حکومت کو آٹھ نکاتی مطالبات پیش کر دیے

 سانحہ زیارت کے شہداء کے لواحقین اور دھرنا کمیٹی نے حکومتی وفد کے ساتھ مذاکرات کے دوران اپنے آٹھ نکاتی مطالبات پیش کر دیے، جن میں سانحے کی شفاف تحقیقات، دہشت گردی کے خاتمے، لیویز فورس کی بحالی اور شہداء کے اہلِ خانہ کے لیے خصوصی مراعات شامل ہیں۔

دھرنا کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ سانحہ زیارت کی تحقیقات سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج یا ایک آزاد جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کرائی جائیں۔ مطالبے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ضلع زیارت کے 42 پولیس اہلکاروں کو ایک دور افتادہ مقام پر تعینات کیا گیا جہاں دہشت گردوں کے حملے میں 30 اہلکار شہید ہوئے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے متعدد بار مدد کی اپیل کے باوجود متعلقہ اداروں کی جانب سے بروقت امداد فراہم نہیں کی گئی، لہٰذا ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

دھرنا کمیٹی نے اپنے دیگر مطالبات میں کہا کہ ضلع زیارت کے تمام متاثرہ علاقوں کو دہشت گردوں سے مکمل طور پر پاک کیا جائے اور مستقبل میں امن و امان برقرار رکھنے کی ضمانت دی جائے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

کمیٹی نے لیویز فورس کو بحال کرکے اسے جدید وسائل، تربیت اور اختیارات فراہم کرنے، جبکہ لیویز کی بحالی کے بعد اس کے سیکیورٹی بجٹ کو دگنا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

مطالبات میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کو علاقے سے واپس بھیجنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

دھرنا کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہید پولیس اہلکاروں کے اہلِ خانہ کے لیے اعلان کردہ مالی معاوضہ دگنا کیا جائے، شہداء کے ورثاء خصوصاً ان کے بچوں کو سرکاری ملازمتوں میں فوری روزگار فراہم کیا جائے، جبکہ شہداء کے بچوں کو ملک کے بہترین تعلیمی اداروں میں مکمل طور پر مفت اور معیاری تعلیم کی سہولت بھی دی جائے۔

دھرنا کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان مطالبات پر عملدرآمد سے نہ صرف شہداء کے اہلِ خانہ کو انصاف ملے گا بلکہ علاقے میں امن و استحکام کے قیام میں بھی مدد ملے گی

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More