Tameerewatan
tameerewatan

سانحہ زیارت کے بعد 30 اہلکاروں کا اجتماعی استعفیٰ، کھلبلی مچ گئی

سانحہ زیارت کے بعد 30 اہلکاروں کا اجتماعی استعفیٰ، کھلبلی مچ گئی

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں زیارت اور ہنہ اوڑک کے حالیہ خونریز واقعات کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور احتجاجی لہر بدستور برقرار ہے۔ انصاف کی فراہمی اور مطالبات کے حق میں دو مختلف مقامات پر دھرنوں نے شہر کا نظامِ زندگی مفلوج کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سانحہ زیارت میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے سوگوار لواحقین نے انصاف نہ ملنے پر 17 شہدا کی میتیں کوئلہ پھاٹک کے مقام پر رکھ کر دوسرا بڑا دھرنا شروع کر دیا ہے۔ اس شدید احتجاج کے باعث سمنگلی روڈ سے شہر کے اندرون کی جانب آنے والا تمام ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گیا ہے۔

ایئرپورٹ روڈ پر پانچواں روز: تدفین تاحال معطل

دوسری جانب، سانحہ ہنہ اوڑک کے شہدا کے لواحقین آج مسلسل پانچویں روز بھی ایئرپورٹ روڈ پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ مظاہرین کا دوٹوک مؤقف ہے کہ جب تک ان کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاجی دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔ انصاف میں تاخیر کے باعث ہنہ اوڑک واقعے کے بعض شہدا کی تدفین بھی تاحال نہیں ہو سکی ہے، جس سے شہر کی مجموعی صورتحال مزید سنگین اور فضا سوگوار ہو چکی ہے۔ ان احتجاجی بندشوں کے باعث ایئرپورٹ روڈ، سمنگلی روڈ اور دیگر ملحقہ شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام ہے اور شہریوں کو سخت مشکلات درپیش ہیں۔

فورسز میں مایوسی: 30 اہلکاروں کا اجتماعی استعفیٰ

حالیہ واقعات کے بعد محکمے کے اندر سے ایک چونکا دینے والی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ضلع زیارت کے مختلف تھانوں میں تعینات تقریباً 30 پولیس اہلکاروں نے احتجاجاً اپنے استعفے اجتماعی طور پر جمع کرا دیے ہیں۔ اگرچہ ان استعفوں کی اصل وجوہات پر تاحال کوئی سرکاری مؤقف یا تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم پولیس کے اعلیٰ حکام نے اس غیر معمولی معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ دنوں ضلع زیارت کے علاقے کچھ مانگی میں ہونے والے مسلح حملے میں متعدد پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے، جس کے بعد سے صورتحال کشیدہ ہے۔

وزیراعظم کی آمد اور اعلیٰ سطحی اجلاس

ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کے اس سنگین بحران اور امن و امان کی نازک صورتحال کے پیشِ نظر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف آج کوئٹہ پہنچیں گے، جہاں وہ صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کریں گے۔ تاہم، وزیراعظم کے اس ہنگامی دورے کے حوالے سے متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال باضابطہ اور حتمی اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More