دو روز تک جاری رہنے والی شدید عسکری کشیدگی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان وقتی طور پر حملے رک گئے ہیں، جبکہ ثالث ممالک کی سفارتی کوششوں سے مذاکرات کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق پاکستان، قطر اور عمان کی ثالثی کے نتیجے میں دونوں ممالک نے فی الحال مزید فوجی کارروائیوں سے گریز کیا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ امریکا اور ایران آبنائے ہرمز، پابندیوں اور سکیورٹی سمیت دیگر متنازع امور پر دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔
گزشتہ دو روز کے دوران امریکا نے ایران کی عسکری تنصیبات، میزائل لانچنگ سائٹس، ڈرون مراکز اور تہران کے قریب اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی گئیں۔
اس کے ردعمل میں ایران نے مصر، اردن اور کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق امریکی حملوں میں 14 افراد جاں بحق اور 78 زخمی ہوئے، جبکہ جنوبی علاقوں میں رہائشی املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ ہو تو سفارت کاری کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، جبکہ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ فوجی دباؤ کے دوران مذاکرات ممکن نہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے کسی بھی نئی عسکری کشیدگی کے عالمی معیشت پر براہِ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔