چین اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی بحری صلاحیتوں کے تناظر میں بھارت نے اپنی بحری طاقت میں اضافے کا منصوبہ تیز کر دیا ہے، جس کے تحت 2035 تک بھارتی نیوی میں 200 جنگی جہاز شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی شپ یارڈز ہر چند ہفتوں بعد ایک نیا جنگی جہاز بحریہ میں شامل کر رہے ہیں۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ بحری بیڑے میں توسیع کا مقصد خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین کے بڑے بحری بیڑے اور پاکستان کی جانب سے جدید آبدوزوں کے حصول کو بھارت اپنی بحری حکمت عملی میں اہم عوامل قرار دے رہا ہے۔
بھارتی بحریہ میں حالیہ عرصے کے دوران مقامی طور پر تیار کیے گئے نئے جنگی جہاز بھی شامل کیے گئے ہیں، جن میں اسٹیلتھ فریگیٹ آئی این ایس مہندرگیری شامل ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ وہ دفاعی پیداوار میں خود انحصاری بڑھانے کے لیے مقامی سطح پر جہاز سازی کو فروغ دے رہا ہے۔
اس وقت بھارتی بحریہ کے پاس تقریباً 150 بحری جہاز موجود ہیں، جبکہ مزید کئی جہاز زیر تعمیر ہیں۔ سابق ریئر ایڈمرل سنجے مسرا کے مطابق درست حکمت عملی اور وسائل کی دستیابی کی صورت میں بھارت 200 جہازوں کے ہدف سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔
تاہم دفاعی ماہرین نے منصوبے کو درپیش چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو جہاز سازی کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ہنرمند افرادی قوت، انفراسٹرکچر اور اہم دفاعی نظاموں کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت کو بحری صلاحیتوں میں اضافے کے لیے فرانس، روس، اسرائیل اور امریکا جیسے ممالک کے ساتھ تعاون اور ٹیکنالوجی منتقلی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ دوسری جانب چین کی بڑھتی ہوئی بحری طاقت اور پاکستان کی جدید آبدوزوں کی شمولیت کو بھی بھارتی بحری حکمت عملی میں اہم عنصر قرار دیا جا رہا ہے۔