بریکنگ نیوز: سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کا وہ تاریخی آرڈر جس نے نیب اور تمام ملزمان کا مستقبل بدل دیا
بریکنگ نیوز: سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کا وہ تاریخی آرڈر جس نے نیب اور تمام ملزمان کا مستقبل بدل دیا
عدالتِ عظمیٰ نے نیب مقدمات کے اختیارِ سماعت سے متعلق ایک بڑا اور اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا قانوناً کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ (جس میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے) نے اس معاملے پر 30 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
فیصلے کے اہم اور بنیادی نکات
وفاقی آئینی عدالت کا دائرہ اختیار: فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت تمام مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں صرف وفاقی آئینی عدالت ہی سنے گی۔
خودکار منتقلی: آئین کے آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت سپریم کورٹ میں زیر التوا تمام نیب کیسز اب خود بخود وفاقی آئینی عدالت کو منتقل تصور ہوں گے۔
‘فورم شاپنگ’ کی ممانعت: عدالت نے قرار دیا کہ کسی سائل یا درخواست گزار کی ذاتی ترجیح یا مرضی پر نیا قانونی فورم تیار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن نہیں کہ ضمانت کی درخواست سپریم کورٹ سنے اور مرکزی اپیل آئینی عدالت میں چلی جائے؛ ایسا تضاد قانون کے خلاف ہوگا۔
بانی پی ٹی آئی کی اپیلوں پر اثرات
اس فیصل کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف ضمانت کی اپیلیں اور ان کی اہلیہ کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی سے متعلق درخواستیں، جن پر سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کیے تھے، اب سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
کیس کا پس منظر
یاد رہے کہ نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو کی جانے والی ترمیم کے تحت شق 32 اے شامل کی گئی تھی، جس کے تحت نیب مقدمات کی اپیلوں کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا۔ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اس کیس پر طویل سماعتوں اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان و نیب وکیلاں کے دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو اب جاری کر دیا گیا ہے۔