مواد پر جائیں

کوئٹہ 18°C فجر 5:26 ظہر 12:16 عصر 4:07 مغرب 5:44 عشاء 7:05
آج کا ای پیپر ⁦2⁩ نومبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بلوچستان

ایران کے پاس معاہدے کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں بچا، ٹرمپ

سات روزہ مہم کے لیے 8 ہزار 888 ٹیمیں تشکیل، نومبر 2024 کے بعد صوبے میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، ای او سی کوآرڈینیٹر انعام الحق

کوئٹہ: بلوچستان کے 31 اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر 22 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے سات روزہ مہم 2 نومبر سے شروع ہوگی۔ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق کے مطابق مہم کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ صوبے بھر میں بچوں تک رسائی یقینی بنانے کے لیے 8 ہزار 888 ویکسینیشن ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

ایران کے پاس معاہدے کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں بچا، ٹرمپ

مہم کے دوران 658 یونین کونسلز میں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ مقررہ ویکسینیشن مراکز اور آمدورفت کے اہم مقامات پر بھی ٹیمیں تعینات ہوں گی تاکہ کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے۔

مہم میں 583 فکسڈ سائٹ ٹیمیں اور 397 ٹرانزٹ پوائنٹ ٹیمیں بھی شامل ہوں گی، جو سفر کرنے والے خاندانوں کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی۔ مہم کوئٹہ کے مشرقی اور مغربی اضلاع کے علاوہ چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، مستونگ، خضدار، حب، چاغی، خاران، نوشکی، ژوب، لورالائی، دکی، بارکھان، کوہلو، موسیٰ خیل، شیرانی، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ، کچھی، جھل مگسی، نصیرآباد، جعفرآباد، صحبت پور، اوستہ محمد، برشور، قلات، سیوی، ڈیرہ بگٹی نارتھ اور ساؤتھ کے مختلف علاقوں میں چلائی جائے گی۔

انعام الحق نے کہا کہ خطے میں پولیو وائرس کی مسلسل موجودگی بدستور تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق پڑوسی ملک افغانستان میں پولیو کے تقریباً 50 کیسز جبکہ پاکستان میں سات کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے باعث بچوں کو وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل اقدامات ضروری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں نومبر 2024 کے بعد پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ صوبے میں نئے کیسز سامنے نہ آنے کے باوجود خطے کے دیگر حصوں میں وائرس کی موجودگی کے باعث صوبے میں وائرس کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ای او سی کوآرڈینیٹر نے کہا کہ بچوں کو بار بار پولیو ویکسین پلانا ان کی قوتِ مدافعت برقرار رکھنے اور وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی کہ وہ مہم کے دوران ویکسینیشن ٹیموں سے تعاون کریں اور پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں، خواہ انہیں گزشتہ مہمات کے دوران بھی قطرے کیوں نہ پلائے گئے ہوں۔ انعام الحق نے اساتذہ، علمائے کرام اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر بھی زور دیا کہ وہ عوام میں آگاہی پیدا کریں اور خاندانوں کو انسدادِ پولیو مہم میں بھرپور شرکت کی ترغیب دیں۔