مواد پر جائیں

کوئٹہ 28°C فجر 5:10 ظہر 12:20 عصر 4:31 مغرب 6:11 عشاء 7:30
آج کا ای پیپر 7 اکتوبر 2026 پڑھیں
پاکستان

صحت و تعلیم کے اخراجات پر بڑا فیصلہ متوقع، آئی ایم ایف کیا کرنے جا رہا ہے؟

صوبوں پر مالی دباؤ کے باعث 4.2 کھرب روپے کا ہدف تقریباً 3.9 کھرب روپے تک کم کرنے پر غور، پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات آخری مرحلے میں داخل

صحت و تعلیم کے اخراجات پر بڑا فیصلہ متوقع، آئی ایم ایف کیا کرنے جا رہا ہے؟

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستان میں صحت اور تعلیم کے شعبوں پر اخراجات کا مقررہ ہدف تقریباً 300 ارب روپے کم کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔

ذرائع کے مطابق موجودہ پروگرام کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لیے صحت اور تعلیم پر مجموعی طور پر 4.2 کھرب روپے سے زائد خرچ کرنے کا ہدف مقرر ہے، جسے مالی دباؤ کے باعث کم کرکے تقریباً 3.9 کھرب روپے کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومتوں کے موجودہ بجٹ میں صحت اور تعلیم کے لیے مختص مجموعی رقم پہلے ہی آئی ایم ایف کے مقررہ ہدف سے تقریباً 500 ارب روپے کم ہے۔ ہدف 3.9 کھرب روپے کرنے کے باوجود تقریباً 200 ارب روپے کا فرق برقرار رہ سکتا ہے۔

گزشتہ مالی سال بھی صوبوں کے صحت اور تعلیم پر مجموعی اخراجات مقررہ ہدف سے تقریباً 370 ارب روپے کم رہے تھے۔ سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال بھی پارلیمانی کمیٹی کو بتا چکے ہیں کہ پروگرام کے دوران ان شعبوں کے اخراجات سے متعلق شرط مسلسل پوری نہیں ہو رہی۔

ذرائع کے مطابق پنجاب اور سندھ نے آئی ایم ایف کو اپنے بجٹ پر موجود مالی دباؤ سے آگاہ کیا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا نے صحت اور تعلیم سے متعلق اپنے اخراجات کے اہداف پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات اب اختتامی مرحلے میں ہیں اور میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز کے مسودے کو حتمی شکل دینے پر بات چیت جاری ہے۔

اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے اور ضروری منظوریوں کے بعد پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر جبکہ موسمیاتی فنانسنگ سہولت کے تحت 200 ملین ڈالر سے زائد کی رقم تک رسائی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔