عوام پر ایک اور بم گرانے کی تیاری
اسلام آباد: مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام کے لیے ایک اور بری خبر سامنے آ گئی ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے ملک بھر کے صارفین پر مزید اربوں روپے کا بوجھ ڈالنے کی تیاری کر لی ہے، جس کے تحت اگست کے بلوں میں فی یونٹ 1 روپے 20 پیسے اضافے کا قوی امکان ہے۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں نیپرا کو بجلی مہنگی کرنے کی باقاعدہ درخواست جمع کرا دی ہے، جس پر 29 جولائی کو عوامی سماعت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر نیپرا نے یہ درخواست منظور کر لی تو کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کے صارفین کی جیبوں سے مزید 15.7 ارب روپے نکلوا لیے جائیں گے۔
سستی بجلی کے باوجود صارفین سے لوٹ مار کیوں؟
حیرت انگیز طور پر جون کے مہینے میں ملک کی 75 فیصد سے زائد بجلی انتہائی سستے یا بالکل مفت (زیرو فیول کاسٹ) ذرائع سے پیدا کی گئی، لیکن اس کے باوجود امپورٹڈ ایندھن کی قیمتوں کا بہانہ بنا کر عوام کو رگڑا لگایا جا رہا ہے۔ سی پی پی اے کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 کے لیے بجلی کی اصل فیول لاگت محض 8 روپے 90 پیسے فی یونٹ رہی، جبکہ ریفرنس لاگت 17 روپے 71 پیسے تھی۔ اسی فرق کا سارا ملبہ اب صارفین پر گرانے کی تیاری ہے۔
ایل این جی، فرنس آئل اور ڈیزل کا ایندھن عام آدمی پر بھاری
بجلی کی لاگت میں اس ہوشربا اضافے کی بڑی وجہ درآمدی ایل این جی (LNG) کی قیمتوں میں سستی بتائی جا رہی ہے، جو گزشتہ سال 16 روپے سے بڑھ کر اب 35 روپے فی یونٹ سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ فرنس آئل سے 52 روپے اور ڈیزل سے 57 روپے فی یونٹ کی مہنگی ترین بجلی پیدا کی گئی۔ اگرچہ قومی گرڈ میں ان مہنگے ذرائع کا حصہ صرف 1 فیصد تھا، لیکن اس نے مجموعی لاگت کو شدید متاثر کیا۔
جون میں بجلی کس ذریعے سے کتنی پیدا ہوئی؟
ملک میں سستی بجلی پیدا ہونے کا تناسب درج ذیل رہا، جس سے صاف ظاہر ہے کہ عوام کو سستے ذرائع کا کوئی فائدہ نہیں دیا جا رہا:
پن بجلی: 39 فیصد (فیول لاگت: بالکل صفر)
نیوکلیئر پاور: 13.5 فیصد (لاگت: 2.85 روپے فی یونٹ)
مقامی کوئلہ: 10 فیصد (لاگت: 11.5 روپے فی یونٹ)
مقامی گیس: 6.5 فیصد (لاگت: 13.7 روپے فی یونٹ)
ہوا، شمسی توانائی اور بگاس: تقریباً 6 فیصد (فیول لاگت: بالکل صفر)
حکام کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر امپورٹڈ ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث یہ اضافہ ناگزیر ہے، جس کا پورا بوجھ اب اگست کے مہینے میں غریب عوام کو اپنے بھاری بلوں کی صورت میں اٹھانا پڑے گا۔