ایران پر امریکی قیامت خیز بمباری،300 امریکی میزائلوں نے تہران کو ہلا دیا
واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے تیسرے مرحلے میں تقریباً 140 ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات کے جواب میں کیے گئے۔
سینٹکام کے بیان کے مطابق کارروائیوں میں امریکی جنگی طیاروں، ڈرونز اور بحری جہازوں سے جدید اور انتہائی درست ہتھیار استعمال کیے گئے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایران کی میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری اثاثوں، اسلحہ ذخیرہ کرنے والے مراکز، مواصلاتی نظام اور ساحلی نگرانی کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ تین روزہ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 300 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی ان صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے جن کے ذریعے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
سینٹکام نے مزید کہا کہ کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت جاری ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل مکمل طور پر معطل نہیں ہوئی۔ امریکی فوج کے مطابق رواں سال مئی سے اب تک آبنائے ہرمز کے راستے 800 سے زائد تجارتی جہازوں اور تقریباً 400 ملین بیرل خام تیل کی محفوظ نقل و حمل میں معاونت فراہم کی گئی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے امریکی حملوں پر باضابطہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دے رہی ہے۔