Tameerewatan
tameerewatan

اگر آپ اسکرین شاٹ دیکھنا بھول جاتے ہیں تو یہ خبر لازمی پڑھیں، ماہرین کا ہوشربا دعویٰ

اگر آپ اسکرین شاٹ دیکھنا بھول جاتے ہیں تو یہ خبر لازمی پڑھیں، ماہرین کا ہوشربا دعویٰ

فون پر اہم معلومات یا قیمتی لمحات کو اسکرین شاٹ یا تصویر کی شکل میں محفوظ کرنا ایک عام عادت بن چکا ہے۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس طرح ہم چیزوں کو ہمیشہ کے لیے ذہن میں محفوظ کر رہے ہیں، لیکن ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس کے بالکل برعکس اور حیران کن نتائج سامنے لائے ہیں۔

امریکا کی بَنگہیمٹن یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق، جو لوگ چیزوں کو یاد رکھنے کے لیے تصویر یا اسکرین شاٹ کا سہارا لیتے ہیں، ان کی معلومات یاد رکھنے کی صلاحیت ان لوگوں کے مقابلے میں کافی حد تک متاثر ہوتی ہے جو تصویر نہیں بناتے۔

شعبہ نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ہم کسی چیز کی تصویر کھینچ لیتے ہیں تو ہمارا دماغ یہ فرض کر لیتا ہے کہ اب اس معلومات کو سنبھالنے کی ذمہ داری فون کی ہے، جس کے نتیجے میں دماغ خود اس کی تفصیلا ت کو یاد رکھنے کی محنت چھوڑ دیتا ہے۔ نفسیات کی دنیا میں اس عمل کو ’فوٹو-ٹیکنگ امپیئرمنٹ ایفیکٹ‘ (Photo-Taking Impairment Effect) کہا جاتا ہے۔

سائنسی جریدے میموری اینڈ کاگنیشن میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کی مرکزی محقق صوفیہ فیبریزیو کے مطابق، اگر لوگ تصویر بنانے کے بعد اسے دوبارہ کھول کر نہ دیکھیں، تو وہ اس واقعے یا معلومات کی باریکیوں کو بہت تیزی سے بھول جاتے ہیں۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے سات مختلف تجربات کیے جن میں شرکا کو مختلف فن پارے دکھائے گئے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے تصاویر بنائیں، وہ بعد میں ان فن پاروں کی تفصیلات بتانے میں ناکام رہے، جبکہ تصویر نہ بنانے والوں کو سب کچھ اچھی طرح یاد تھا۔

اس تجربے میں ایک اور دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ یہ مسئلہ صرف اسی وقت ہوتا ہے جب انسان خود اپنے ہاتھ سے تصویر یا اسکرین شاٹ لے۔ اگر کیمرہ خودکار طریقے سے تصویر لے، تو دماغی یادداشت پر ایسا منفی اثر نہیں پڑتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود تصویر کھینچنے کی تسلی ہی دماغ کو سست بنا دیتی ہے۔

آج کے دور میں ہر شخص کے فون میں ہزاروں کی تعداد میں اسکرین شاٹس اور تصاویر کا ڈھیر لگا ہوتا ہے۔ اگر آپ واقعی کسی معلومات کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو محض اسکرین شاٹ لے کر گیلری میں چھوڑ دینا کافی نہیں، بلکہ ان تصاویر کو وقت فوقتاً دوبارہ دیکھنا بھی ضروری ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More