کوئٹہ میں گھنٹوں طویل بند کمرہ مذاکرات کا اختتام: کیا لواحقین کے تمام مطالبات مان لیے گئے؟
سانحہ زیارت کے لواحقین اور دھرنا کمیٹی کے ساتھ حکومتی وفد کے طویل مذاکرات بالآخر اختتام پذیر ہو گئے ہیں۔ مذاکرات کے اختتام کے فوراً بعد حکومتی وفد وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو اب تک کی پیش رفت اور تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس روانہ ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، فریقین کے درمیان ہونے والے یہ مذاکرات انتہائی خوشگوار اور سنجیدہ ماحول میں مکمل ہوئے، جن میں دھرنا کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات کے ایک ایک نکتے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ حکومتی وفد کے ارکان کا کہنا ہے کہ بات چیت کے دوران جوڈیشل کمیشن کے قیام سمیت متعدد بنیادی مطالبات پر فریقین کے درمیان کافی حد تک اتفاقِ رائے ہو چکا ہے، جبکہ دیگر تصفیہ طلب معاملات پر بھی مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ حکومتی وفد وزیراعلیٰ بلوچستان کو اعتماد میں لینے کے بعد باقاعدہ طور پر اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گا۔
مذاکرات کے اس اہم دور میں دھرنا کمیٹی کی نمائندگی عبدالرحیم زیارتوال، اصغر خان اچکزئی، آغا حسن بلوچ، مولانا قادر لونی اور دیگر قوم پرست و مذہبی رہنماؤں نے کی، جنہوں نے لواحقین کے مطالبات اور تحفظات کو حکومتی وفد کے سامنے مضبوطی سے رکھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں ہونے والی بڑی پیش رفت کے بعد دھرنے کے پُرpeace حل کی مضبوط امید پیدا ہو گئی ہے، تاہم مطالبات کی باقاعدہ حتمی منظوری اور ان پر عمل درآمد کا حتمی فیصلہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشاورت اور منظوری سے ہی مشروط ہو گا۔