Tameerewatan
tameerewatan

نوکری پیشہ افراد کے لیے خطرے کی گھنٹی

فن لینڈ: فن لینڈ میں کی گئی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دفتر میں مسلسل خراب کارکردگی، کام کی رفتار میں کمی اور پیداواری صلاحیت کا گھٹنا ابتدائی عمر میں ہونے والی ڈیمنشیا (یادداشت کی بیماری) کی ابتدائی علامات میں شامل ہو سکتا ہے، جو بیماری کی تشخیص سے کئی سال پہلے ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ابتدائی عمر کی ڈیمنشیا 65 سال سے پہلے لاحق ہونے والی بیماری ہے، جو یادداشت، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، جذبات اور روزمرہ زندگی کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ کارکردگی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ چونکہ کم عمر افراد میں اس بیماری کا شبہ کم کیا جاتا ہے، اس لیے اکثر اس کی تشخیص میں کافی تاخیر ہو جاتی ہے۔

تحقیق کے دوران تقریباً 800 ایسے افراد کے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا جو ابتدائی عمر کی ڈیمنشیا میں مبتلا تھے، جبکہ ان کا تقابل 7 ہزار سے زائد صحت مند افراد سے کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ متاثرہ افراد کی ملازمت میں کارکردگی اور آمدنی بیماری کی تشخیص سے تقریباً 15 سال پہلے ہی متاثر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

محققین کے مطابق ان افراد کی سالانہ آمدنی اوسطاً 13 ہزار 800 ڈالر کم رہی، جبکہ 12 برس کے عرصے میں انہیں مجموعی طور پر تقریباً 86 ہزار ڈالر کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر اینو سولجے نے کہا کہ ابتدائی عمر کی ڈیمنشیا انسان کو اس وقت متاثر کرتی ہے جب وہ اپنے کیریئر کے اہم مرحلے میں ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کام کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، بے روزگاری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور بعض افراد وقت سے پہلے ملازمت چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کی دفتری کارکردگی میں بغیر کسی واضح وجہ کے مسلسل کمی آ رہی ہو تو اسے معمولی بات سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ بروقت تشخیص سے بیماری کے علاج اور اس پر قابو پانے میں بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More