بلوچستان میں بڑا سیکیورٹی ایکشن پلان تیار، غیر قانونی افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت بلوچستان اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، جن پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات، صوبے کی سیکیورٹی صورتحال اور غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں، خصوصاً افغان مہاجرین، کی واپسی سے متعلق معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے بعد بلوچستان پولیس، ایف سی، ایف آئی اے، اسپیشل برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ 11 جولائی سے کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائیاں شروع کی جائیں۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی رپورٹس میں مطلوب عناصر اور ان کے مبینہ سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں مزید تیز کرنے کی سفارش کی گئی، جس پر اپیکس کمیٹی نے مؤثر اقدامات کی ہدایت جاری کی۔
رپورٹ کے مطابق کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں شناختی دستاویزات کی جانچ کا عمل سخت کیا جائے گا، جبکہ تندوروں، ڈرائی فروٹ کی دکانوں اور دیگر کاروباری مراکز میں کام کرنے والے افراد کی دستاویزات بھی چیک کی جائیں گی۔
حکام کے مطابق ایسے افراد جن کے پاس پاکستان میں قیام کے لیے قانونی دستاویزات موجود نہیں ہوں گی، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اجلاس میں حساس مقامات کی نگرانی مزید سخت کرنے، دہشت گردی، سہولت کاری اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اس مقصد کے لیے ایف آئی اے، بلوچستان پولیس، اسپیشل برانچ، ایف سی انٹیلی جنس اور دیگر متعلقہ اداروں پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔