بلوچستان پولیس نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس خبر کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ضلع زیارت میں تعینات 30 پولیس اہلکاروں نے اپنی ملازمتوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ترجمان بلوچستان پولیس کے مطابق یہ خبر سراسر بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زیارت پولیس کے اہلکاروں کے اجتماعی استعفوں کی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) زیارت عبدالمالک نے بھی اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ایسے کسی واقعے کی کوئی اطلاع نہیں اور نہ ہی ضلع زیارت میں پولیس اہلکاروں کے اجتماعی استعفوں کا کوئی معاملہ پیش آیا ہے۔
بلوچستان پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر اعتماد کریں۔
بلوچستان پولیس کے ترجمان نے ایک اور وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بلوچستان کانسٹیبلری کے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ (SPU) کے کانسٹیبل محمد ادریس کی جانب سے استعفیٰ دینے سے متعلق وائرل خبر بھی بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔
ترجمان کے مطابق محمد ادریس غیر حاضری کا عادی اہلکار تھا اور متعدد مرتبہ بغیر اجازت یا اطلاع کے کئی کئی روز تک ڈیوٹی سے غیر حاضر رہا۔ وہ 23 مئی 2026 سے مسلسل غیر حاضر تھا، جس پر محکمہ بلوچستان کانسٹیبلری نے قواعد کے مطابق 22 جون 2026 اور 6 جولائی 2026 کو حاضر باشی نوٹس جاری کیے، تاہم اس نے کوئی جواب یا رابطہ نہیں کیا۔
ترجمان نے بتایا کہ محمد ادریس 19 فروری 2025 کو بھرتی ہوا تھا، لیکن مختصر ملازمت کے دوران مختلف اوقات میں مجموعی طور پر 36 روز غیر حاضر رہا، جبکہ 23 مئی 2026 سے مسلسل غیر حاضری اختیار کیے رکھی۔ اس سے قبل بھی غیر حاضری پر اس کی چھ ماہ سروس ضبط کی جا چکی تھی۔
بیان کے مطابق مسلسل غیر حاضری اور محکمانہ قوانین کی خلاف ورزی کے باعث محمد ادریس کو 23 مئی 2026 سے قواعد کے مطابق ملازمت سے برخاست کر دیا گیا تھا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں سوشل میڈیا پر استعفے کی خبر پھیلا کر محکمہ بلوچستان پولیس اور بلوچستان کانسٹیبلری کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کی گئی، جس میں کوئی حقیقت نہیں۔