Tameerewatan
tameerewatan

غزہ کے حوال سے ٹرمپ نے ایک اور معاہد ہ کرالیا

غزہ کے حوال سے ٹرمپ نے ایک اور معاہد ہ کرالیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے معاملے پر ایک تاریخی اور سنسنی خیز پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حماس اور دیگر تمام مسلح گروہوں نے مکمل طور پر غیر مسلح ہونے پر اتفاق کر لیا ہے۔ مصر، قطر، ترکی اور بورڈ آف پیس کی ثالثی سے طے پانے والا یہ معاہدہ غزہ سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی تشکیل کی راہ ہموار کرے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ یہ پیش رفت ان کے 20 نکاتی امن منصوبے کا اہم ترین سنگ میل ہے۔ معاہدے کے تحت غزہ کی حکمرانی ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ (NCAG) کے سپرد کی جائے گی جو غیر جانبدار ہو کر کام کرے گی۔ اس کے علاوہ ایک نئی فلسطینی پولیس فورس اور بین الاقوامی استحکامی فورس قائم کی جائے گی جو امن و امان اور ہتھیار جمع کرنے کا عمل دیکھیں۔

حماس کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ معاہدے کی کامیابی اسرائیل کی جانب سے اپنی تمام ذمہ داریوں پر عمل درآمد پر منحصر ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، لیکن اس کی حتمی کامیابی کا انحصار تمام گروہوں کے مکمل طور پر غیر مسلح ہونے اور اسرائیل کے غزہ سے مکمل انخلا پر ہوگا۔

یہ رہی اس تازہ اور اہم پیش رفت کی سلیس دوبارہ تحریر، اور ساتھ ہی 5 ایسی کڑک و سنسنی خیز سرخیاں جو قارئین کو متوجہ کر لیں گی:

غزہ جنگ بندی میں بڑا بریک تھرو! شرط پر شرط کا نیا نظام لاگو، کیا اسرائیل اس نئے روڈ میپ کو مان لے گا؟

 غزہ میں جاری جنگ کے حتمی خاتمے اور مستقبل کے انتظامی ڈھانچے کے لیے 4 صفحات پر مشتمل ایک نیا اور اہم مجوزہ روڈ میپ سامنے آ گیا ہے۔ اس منصوبے میں حماس کی مرحلہ وار غیر مسلحی، اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا اور نئی فلسطینی عبوری انتظامیہ کے قیام کو ایک دوسرے سے مشروط کیا گیا ہے، جس کے تحت جب تک ایک فریق اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرے گا، اگلا مرحلہ شروع نہیں ہوگا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پورا منصوبہ “زیرو ٹرسٹ” (عدم اعتماد اور صرف تصدیق) کے اصول پر تیار کیا گیا ہے، یعنی کسی فریق پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے ہر قدم کی باقاعدہ بین الاقوامی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ روڈ میپ کے مطابق سب سے پہلے چھوٹے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے گا، جس کے بعد حماس کی سرنگوں کے نیٹ ورک، اسلحہ کے ذخائر اور ہتھیار بنانے کی تنصیبات کو ختم کرنے کا عمل شروع ہوگا، جس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

منصوبے کے تحت تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد قائم ہونے والی نئی فلسطینی عبوری اتھارٹی کے پاس ہی اسلحے کا مکمل اختیار ہوگا، جبکہ ایک بین الاقوامی فورس امن و امان کے قیام میں مدد کرے گی۔ دوسری جانب، اسرائیل کی طرف سے اس منصوبے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس سے اس کے عملی نفاذ پر متعدد سوالات قائم ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More