مواد پر جائیں

کوئٹہ 21°C فجر 5:29 ظہر 12:16 عصر 4:04 مغرب 5:41 عشاء 7:03
آج کا ای پیپر ⁦5⁩ نومبر ⁦2026⁩ پڑھیں
پاکستان

پاکستان کا بیرونی قرضہ 10 سال میں تقریباً دگنا، 135 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 2015 میں پاکستان کا بیرونی قرضہ 68.67 ارب ڈالر تھا جو 2025 میں بڑھ کر 135.10 ارب ڈالر ہوگیا، چین سب سے بڑا انفرادی قرض دہندہ

اسلام آباد: پاکستان کے بیرونی قرضوں میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ عالمی بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2015 سے 2025 کے درمیان ملک کا مجموعی بیرونی قرضہ تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔

پاکستان کا بیرونی قرضہ 10 سال میں تقریباً دگنا، 135 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا

عالمی بینک کی انٹرنیشنل ڈیٹ رپورٹ 2026 کے مطابق پاکستان کا مجموعی بیرونی قرضہ 2015 میں 68 ارب 67 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھا، جو 2025 میں بڑھ کر 135 ارب 10 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔

اس طرح 10 سال کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضوں میں تقریباً 66 ارب 43 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا، جو لگ بھگ 97 فیصد بنتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی بیرونی قرضوں میں 107 ارب 7 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سرکاری اور حکومتی ضمانت یافتہ قرضوں پر مشتمل ہیں، جبکہ 17 ارب 58 کروڑ ڈالر نجی شعبے کے غیر ضمانت یافتہ قرضے اور 10 ارب 45 کروڑ ڈالر قلیل مدتی قرضے ہیں۔

پاکستان پر سب سے زیادہ قرض کس کا ہے؟

عالمی بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض دہندہ ہے، جس کے 22 ارب 40 کروڑ ڈالر واجب الادا ہیں۔

اس کے بعد عالمی بینک کے 19 ارب 20 کروڑ ڈالر اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے 16 ارب 83 کروڑ ڈالر کے قرضے واجب الادا ہیں۔

سرکاری اور حکومتی ضمانت یافتہ قرضوں کی تفصیلات کے مطابق 56 ارب 83 کروڑ ڈالر کثیر الجہتی مالیاتی اداروں، 42 ارب 43 کروڑ ڈالر مختلف ممالک اور 7 ارب 80 کروڑ ڈالر نجی قرض دہندگان کے واجب الادا ہیں۔

چین نے 2 ارب ڈالر کے قرضوں کی واپسی میں توسیع کردی

رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران چین نے پاکستان کو فراہم کیے گئے 2 ارب ڈالر کے قرضوں کی واپسی کی مدت میں توسیع کی۔

اسی عرصے میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو معاشی استحکام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اپنے مختلف پروگراموں کے تحت مجموعی طور پر 2 ارب 30 کروڑ ڈالر کی نئی رقوم فراہم کیں۔

یہ رقم آئی ایم ایف کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے تحت فراہم کی گئی۔

عالمی بینک کی رپورٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضوں کے مجموعی حجم میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا ہے۔