مواد پر جائیں

کوئٹہ 22°C فجر 5:29 ظہر 12:16 عصر 4:04 مغرب 5:41 عشاء 7:03
آج کا ای پیپر ⁦5⁩ نومبر ⁦2026⁩ پڑھیں
پاکستان

مکہ مکرمہ میں طے پانے والے سہ فریقی معاہدے کے حق میں 279 اور مخالفت میں 119 ووٹ، ترک حکام کے مطابق معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے

انقرہ: ترکیہ کی پارلیمنٹ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردی ہے، جس کے بعد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو باضابطہ بنانے کی جانب پیش رفت ہوئی ہے۔

ترک میڈیا کے مطابق 600 رکنی پارلیمنٹ میں معاہدے کے حق میں 279 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ 119 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ مجموعی طور پر 398 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔

مکہ مکرمہ میں طے پانے والے سہ فریقی معاہدے کے حق میں 279 اور مخالفت میں 119 ووٹ، ترک حکام کے مطابق معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے

پارلیمانی منظوری کے بعد معاہدے پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ قانونی اور انتظامی مراحل مکمل کیے جائیں گے۔

ترک پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین نے معاہدے سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنا نہیں۔

ترکیہ کی حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے رکن ضیا آلتونیالدز نے بھی کہا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں سیکیورٹی تعاون کو فروغ دینا اور تینوں ممالک کے درمیان دفاعی روابط مضبوط بنانا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان شریک ہوئے تھے۔

ترک پارلیمنٹ کی جانب سے معاہدے کی توثیق کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

تاہم معاہدے کی عملی نوعیت، مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں اور اس کے نفاذ کی تفصیلات متعلقہ ممالک کے باضابطہ اعلانات سے واضح ہوں گی۔