اسلام آباد : وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور تجارتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقتصادی یکجہتی، باہمی تجارت اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائیں۔ اسلامی ممالک کے پاس وسیع قدرتی وسائل، افرادی قوت اور معاشی صلاحیتیں موجود ہیں، جنہیں باہمی تعاون کے ذریعے مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔وفاقی وزیر تجارت نے یہ بات اقتصادی و تجارتی تعاون کی قائمہ کمیٹی (COMCEC) کے 42ویں اجلاس کی اختتامی نشست سے او آئی سی رکن ممالک کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے اسلامی ممالک کے درمیان تجارتی روابط مضبوط بنانے، برآمدات میں اضافے اور کاروباری شعبے کو جدید مالیاتی سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔جام کمال خان نے کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان باہمی تجارت بڑھانے کے لیے مؤثر تجارتی مالیاتی سہولتوں کی فراہمی ناگزیر ہے۔ خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور برآمدکنندگان کو آسان اور کم لاگت پر مالی معاونت فراہم کرنا ہوگی تاکہ وہ عالمی منڈیوں میں بہتر انداز میں مقابلہ کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ تجارتی مالی معاونت کی راہ میں حائل قانونی، انتظامی اور مالی رکاوٹوں کو مشترکہ کوششوں سے دور کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی ممالک کو برآمدی قرضوں کی ضمانتوں اور جدید مالیاتی سہولتوں کے نظام کو مضبوط بنانا چاہیے، جبکہ شریعت کے مطابق اسلامی تجارتی مالیاتی نظام کا فروغ بھی برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔وفاقی وزیر نے کسٹمز اور بینکاری نظام کی ڈیجیٹلائزیشن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید ڈیجیٹل نظام سے سرحد پار تجارت آسان، تجارتی اخراجات کم اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی لائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے خواتین اور نوجوانوں کے زیر انتظام کاروباروں کو خصوصی مالی سہولیات اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔جام کمال خان کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کے درمیان تجارتی روابط کے ساتھ ٹرانسپورٹ، سیاحت اور ڈیجیٹل تعاون کو بھی مستحکم کرنا ہوگا۔ نجی شعبہ سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، جدت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے، اس لیے کاروباری اداروں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینا ضروری ہے۔انہوں نے زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں اسلامی ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔فلسطین کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت نے او آئی سی رکن ممالک کی جانب سے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے غزہ میں انسانی المیے، مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے والے اقدامات اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ COMCEC اجلاس کی اصل کامیابی اس کی سفارشات اور فیصلوں پر مؤثر عملی عملدرآمد سے مشروط ہے۔ اسلامی ممالک کو مشترکہ اقتصادی اہداف کے حصول کے لیے باہمی روابط اور شراکت داری مزید مضبوط بنانا ہوگی۔جام کمال خان نے کامیاب اجلاس کے انعقاد اور بہترین میزبانی پر ترک حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی یکجہتی اور مشترکہ اقتصادی تعاون کے ذریعے مضبوط، مستحکم اور باہم مربوط معیشتوں کی تشکیل ممکن ہے۔