کوئٹہ: بلوچستان کے اضلاع کچھی اور خاران میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران 17 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کا ایک جوان شہید ہوگیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دونوں کارروائیاں یکم نومبر 2026 کو دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر کی گئیں، جن میں فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج سے منسلک عناصر کو نشانہ بنایا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع کچھی کے علاقے سنی میں دہشت گردوں نے سڑک کی ناکہ بندی کرنے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے یہ کوشش ناکام بنادی۔ کارروائی کے دوران 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے اور ان کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا۔
دوسری کارروائی ضلع خاران میں کی گئی، جہاں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں 7 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق خاران میں کارروائی کے دوران پاک فوج کے 25 سالہ سپاہی حکمت اللہ نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ شہید کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع کرک سے تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ دونوں علاقوں میں دیگر دہشت گردوں کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر کلیئرنس آپریشن جاری ہیں۔ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عزم استحکام کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
صدر مملکت کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان کے اضلاع کچھی اور خاران میں کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔
صدر مملکت نے ضلع کچھی میں دہشت گردوں کی جانب سے سڑک کی ناکہ بندی کی کوشش ناکام بنانے اور خاران میں دہشت گردوں کے ٹھکانے کے خلاف کارروائی کو سراہا۔
انہوں نے سپاہی حکمت اللہ کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہید کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ وطن کے دفاع اور امن و سلامتی کے لیے سپاہی حکمت اللہ کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
صدر مملکت نے شہید کے درجات کی بلندی اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔