مواد پر جائیں

کوئٹہ 22°C فجر 5:14 ظہر 12:18 عصر 4:23 مغرب 6:02 عشاء 7:21
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بین الاقوامی

مدینہ منورہ کے قریب کروز میزائل تباہ، سعودی اتحاد کا حملہ ناکام بنانے کا اعلان

سعودی فوجی اتحاد نے مدینہ منورہ کے علاقے میں کروز میزائل مار گرانے کی تصدیق کردی، حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے کی تردید کردی

ریاض: سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے مدینہ منورہ کے علاقے میں ایک کروز میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ یمن کی حوثی تحریک نے سعودی سرزمین پر کسی بھی حملے میں ملوث ہونے کی تردید کردی ہے۔

مدینہ منورہ کے قریب کروز میزائل تباہ، سعودی اتحاد کا حملہ ناکام بنانے کا اعلان

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری مختصر بیان میں بتایا کہ اتحادی افواج نے مدینہ منورہ کے علاقے میں ایک کروز میزائل کو کامیابی سے روک کر تباہ کردیا۔

ترجمان نے میزائل داغے جانے کے مقام، اس کے اصل ہدف یا حملے کے ذمہ داروں کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ اسی طرح میزائل کی تباہی کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی بھی فوری اطلاع سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب حوثی تحریک کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم نے جمعرات کو سعودی سرزمین کی جانب کوئی فوجی کارروائی نہیں کی۔

حوثی ترجمان کا کہنا تھا کہ مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے سے متعلق سعودی دعویٰ درست نہیں۔ حوثی تحریک اس سے قبل بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو اپنے حملوں سے مستثنیٰ رکھنے کا اعلان کرچکی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور یمن کی حوثی تحریک کے درمیان فوجی کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے اور گزشتہ چند روز کے دوران میزائلوں اور ڈرونز سے متعلق متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

سعودی فوجی اتحاد نے جمعرات کی صبح مشرقی صوبے میں بھی ایک ڈرون مار گرانے کا اعلان کیا تھا، جبکہ ایک روز قبل دارالحکومت ریاض کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کی اطلاع دی گئی تھی۔

سعودی حکام کے مطابق ریاض میں تباہ کیے گئے ایک میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک غیر ملکی شہری زخمی ہوا، جبکہ ایک مکان اور گاڑی کو بھی محدود نقصان پہنچا۔

اس سے قبل سعودی اتحاد نے 29 ستمبر کو مدینہ منورہ میں واقع طیبہ بجلی تقسیم مرکز پر ڈرون حملے کا الزام بھی حوثیوں پر عائد کیا تھا۔ اتحادی فوج کے ترجمان کے مطابق اس واقعے میں ایک ٹرانسفارمر متاثر ہوا تھا، تاہم بجلی کی مجموعی فراہمی میں تعطل نہیں آیا۔

طیبہ بجلی مرکز کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ مسجد نبوی ﷺ کو بجلی فراہم کرنے والے نظام سے منسلک ہے۔ تاہم تازہ میزائل واقعے میں مسجد نبوی ﷺ کو نشانہ بنائے جانے کی کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی۔

مدینہ منورہ مسلمانوں کے مقدس ترین شہروں میں سے ایک ہے، جہاں مسجد نبوی ﷺ واقع ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں میزائل کی موجودگی کی اطلاع نے خصوصی توجہ حاصل کی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد 2015 سے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں حوثی تحریک کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران دونوں جانب سے فوجی کارروائیوں اور حملوں سے متعلق متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں۔

مدینہ منورہ کے تازہ واقعے میں سعودی اتحاد نے کروز میزائل تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم میزائل کی اصل سمت، ہدف اور ذمہ دار فریق کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔