مواد پر جائیں

کوئٹہ 22°C فجر 5:14 ظہر 12:18 عصر 4:23 مغرب 6:02 عشاء 7:21
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بین الاقوامی

استنبول میں طوفانی بارش اور سیلاب سے تباہی، 14 سالہ لڑکے سمیت 2 افراد جاں بحق، اسکول بند

شدید بارش سے سڑکیں، انڈر پاس اور رہائشی علاقے زیرِ آب آگئے، ٹریفک کا نظام متاثر، حکام نے تعلیمی سرگرمیاں معطل کردیں

استنبول: ترکیہ کے شہر استنبول میں طوفانی بارش اور سیلابی صورتحال کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ مختلف علاقوں میں پانی جمع ہونے اور حادثات کے نتیجے میں 14 سالہ لڑکے سمیت 2 افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے تحت اسکول بند کردیے۔

استنبول میں طوفانی بارش اور سیلاب سے تباہی، 14 سالہ لڑکے سمیت 2 افراد جاں بحق، اسکول بند

مقامی رپورٹس کے مطابق بدھ کی رات شروع ہونے والی شدید بارش جمعرات تک جاری رہی، جس کے نتیجے میں شہر کی متعدد سڑکیں، انڈر پاس، کاروباری مراکز اور رہائشی علاقے زیرِ آب آگئے۔

بارش کے دوران مختلف مقامات پر پانی کی سطح بلند ہونے سے گاڑیاں پھنس گئیں، جبکہ اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ایک 14 سالہ لڑکا بھی شامل ہے، جو بارش کے جمع شدہ پانی میں بجلی کا کرنٹ آنے سے جان کی بازی ہار گیا۔ دوسرے شخص کی ہلاکت کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔

شدید موسمی صورتحال کے پیش نظر حکام نے جمعرات کو استنبول بھر میں تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا، جبکہ بعض سرکاری ملازمین کو بھی چھٹی دے دی گئی تاکہ غیر ضروری آمدورفت کم کی جاسکے۔

انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے تحت موٹر سائیکلوں کی آمدورفت پر عارضی پابندی بھی عائد کردی۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور پانی جمع ہونے والے علاقوں سے دور رہیں۔

حکام نے بالخصوص تہہ خانوں اور نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر افراد کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی، کیونکہ شدید بارش کے دوران ایسے مقامات پر پانی تیزی سے داخل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

دوسری جانب امدادی ٹیموں نے متاثرہ علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے مختلف مقامات پر پھنسے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ پانی کی نکاسی اور متاثرہ راستوں کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے گئے۔

استنبول کی بلدیہ کے مطابق شہر کے بعض علاقوں میں ریکارڈ کی گئی بارش کی مقدار گزشتہ کئی دہائیوں کی بلند ترین سطحوں میں شامل رہی، جس کے باعث نکاسیٔ آب کے نظام پر غیر معمولی دباؤ پڑا۔

موسلادھار بارش کے باعث متعدد گھروں اور کاروباری مراکز میں پانی داخل ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، تاہم متاثرہ عمارتوں اور کاروباروں کی حتمی تعداد کا تعین ابھی باقی ہے۔

حکام کے لیے بارش کا پانی نکالنے، متاثرہ سڑکوں کو بحال کرنے اور نقصانات کا مکمل جائزہ لینے کا عمل اہم چیلنج بنا ہوا ہے۔

مقامی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسمی صورتحال سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور پانی میں ڈوبی سڑکوں یا بجلی کی تنصیبات کے قریب جانے سے گریز کریں تاکہ مزید حادثات سے بچا جاسکے۔