صنعا: یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے چین سے حاصل کردہ پرزوں کی مدد سے جدید درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی کوشش کا انکشاف ہوا ہے۔ ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حوثی ایران کے طاقتور میزائل خیبر شکن کی طرز پر اپنا میزائل تیار کرنا چاہتے ہیں، جس کی ممکنہ مار کرنے کی صلاحیت سعودی عرب اور اسرائیل تک ہوسکتی ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسلحے کی نگرانی کرنے والے تحقیقی ادارے کنفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حوثیوں نے چین کے ایک سپلائر سے ایسے پرزے حاصل کیے جو ایران کے جدید بیلسٹک میزائل سے ملتا جلتا ہتھیار تیار کرنے کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجوزہ میزائل کی مار کرنے کی صلاحیت تقریباً 1200 میل، یعنی 1900 کلومیٹر تک ہوسکتی ہے۔ اگر حوثی اس منصوبے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو سعودی عرب کے وسیع علاقے اور اسرائیل بھی اس کی ممکنہ پہنچ میں آسکتے ہیں۔ تاہم ابھی یہ تصدیق نہیں ہوئی کہ حوثی اس نوعیت کا مکمل اور قابل استعمال میزائل تیار کرچکے ہیں۔
ایران نے خیبر شکن میزائل پہلی مرتبہ 2022 میں متعارف کرایا تھا۔ یہ ایک درمیانی فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے جسے درست نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے ہتھیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حوثی اسی میزائل کی طرز پر مقامی سطح پر ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
تحقیقاتی ادارے کے مطابق یمنی حکام نے 2025 میں دو ایسی کھیپیں ضبط کی تھیں جن میں میزائل سازی سے متعلق مختلف سامان موجود تھا۔ ضبط کیے گئے سامان میں میزائل کے انجن اور بیرونی ڈھانچے کے مخصوص دھاتی پرزے، پرواز کے دوران استحکام برقرار رکھنے والے حصے، راکٹ موٹر کے اجزا اور جانچ کے آلات شامل تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ضبط شدہ سامان میں ایسے خام مواد اور حفاظتی اجزا موجود تھے جو میزائل کی پرواز کے دوران پیدا ہونے والی شدید حرارت سے بعض حصوں کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ متعلقہ شپنگ دستاویزات میں چین کی ایک ایسی کمپنی کی نشاندہی ہوئی جو فضائی اور خلائی صنعت کے لیے مخصوص دھاتی پرزے تیار کرتی ہے۔ رپورٹ میں اس کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔
اسلحے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثی ماضی میں بڑی حد تک ایران سے فراہم کیے جانے والے میزائلوں اور ان کے پرزوں پر انحصار کرتے تھے، تاہم اب وہ مقامی سطح پر ہتھیاروں کی تیاری کی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے مختلف ممالک سے سامان حاصل کرنے اور سپلائی کے نئے ذرائع استعمال کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
کنفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ سے وابستہ ماہر فیبین ہنز کے مطابق چین سے متعلقہ پرزوں کی درآمد کے شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حوثی یا تو مقامی سطح پر میزائل بنانے کی کوشش کررہے ہیں یا اس عمل کے کسی مرحلے تک پہنچ چکے ہیں۔ تاہم ان کی خفیہ تنصیبات کی وجہ سے یہ جاننا مشکل ہے کہ منصوبے میں کتنی عملی پیش رفت ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کی یمن سے متعلق پابندیوں کے ماہر رہنے والے ہنری تھامسن کے مطابق ایسے شواہد موجود ہیں کہ حوثی کم از کم دو سال سے چین سے ٹھوس ایندھن والے بیلسٹک میزائلوں کے پرزے حاصل کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائل حوثیوں کی موجودہ عسکری صلاحیت میں اضافہ کرسکتے ہیں۔
رپورٹ میں چین سے منسلک سپلائی کے ذرائع پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم چینی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ حوثیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی پاسداری کرتی ہے۔ بعض ضبط شدہ پرزے ایسے بھی ہیں جن کا استعمال شہری اور عسکری دونوں مقاصد کے لیے ممکن ہے۔
ماہرین کے مطابق حوثیوں کی جانب سے جدید میزائلوں کی مقامی تیاری میں کامیابی کی صورت میں مشرق وسطیٰ کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر سعودی عرب، اسرائیل اور بحیرہ احمر کے خطے میں موجود تنصیبات کے لیے ممکنہ خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
تاہم تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آنے والے شواہد بنیادی طور پر میزائل سازی کے پرزوں کی درآمد اور حوثیوں کی ممکنہ تیاریوں سے متعلق ہیں۔ ان شواہد کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ حوثیوں نے مجوزہ جدید میزائل کی تیاری مکمل کرلی ہے یا اسے عملی طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے۔