مواد پر جائیں

کوئٹہ 22°C فجر 5:14 ظہر 12:18 عصر 4:23 مغرب 6:02 عشاء 7:21
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بین الاقوامی

حوثی کون ہیں اور سعودی عرب سے ان کی دشمنی کیوں ہے؟ ایران سے تعلقات کی پوری کہانی

یمن کی ایک مذہبی تحریک طاقتور مسلح تنظیم کیسے بنی، سعودی عرب سے تنازع کیوں شروع ہوا اور بحیرہ احمر میں اس کی کارروائیاں عالمی تجارت کے لیے خطرہ کیوں ہیں؟

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران یمن کی حوثی تحریک ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں کے تازہ واقعات نے اس سوال کو اہم بنا دیا ہے کہ حوثی کون ہیں، ان کی سعودی عرب سے دشمنی کی بنیاد کیا ہے اور ایران کے ساتھ ان کے تعلقات کس نوعیت کے ہیں۔

حوثی کون ہیں اور سعودی عرب سے ان کی دشمنی کیوں ہے؟ ایران سے تعلقات کی پوری کہانی

حوثی تحریک، جس کا باضابطہ نام انصار اللہ ہے، یمن کی ایک سیاسی اور مسلح تنظیم ہے۔ اس کی ابتدا 1990 کی دہائی میں شمالی صوبے صعدہ سے ہوئی، جہاں زیدی شیعہ مذہبی اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کے لیے ایک تحریک ابھری تھی۔

زیدیت شیعہ اسلام کی ایک شاخ ہے جس کی یمن میں طویل تاریخ ہے۔ تحریک کے ابتدائی نمایاں رہنما حسین بدرالدین الحوثی تھے، جنہوں نے مذہبی سرگرمیوں کے ساتھ حکومتی پالیسیوں اور زیدی آبادی کی سیاسی و سماجی محرومیوں کو بھی اپنے مؤقف کا حصہ بنایا۔

سال 2004 میں حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان مسلح تصادم شروع ہوا۔ اسی سال حسین الحوثی مارے گئے، جس کے بعد ان کے بھائی عبدالملک الحوثی نے قیادت سنبھالی۔ بعد کے برسوں میں یمنی فوج کے ساتھ مسلسل لڑائیوں نے اس تحریک کو ایک منظم عسکری قوت میں تبدیل کردیا۔

یمن میں 2011 کے سیاسی احتجاج اور صدر علی عبداللہ صالح کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھ گیا۔ حوثیوں نے ستمبر 2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

مارچ 2015 میں سعودی عرب نے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف فوجی مداخلت شروع کی۔ سعودی اتحاد کا مقصد یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی بحالی اور حوثیوں کی پیش قدمی روکنا تھا، تاہم طویل جنگ کے باوجود حوثی شمال مغربی یمن میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجوہات میں یمن کے اقتدار کا تنازع، سرحدی سلامتی اور خطے میں ایران اور سعودی عرب کی رقابت شامل ہیں۔ ریاض کو خدشہ رہا ہے کہ یمن میں حوثیوں کی مضبوط موجودگی اس کی جنوبی سرحد کے قریب ایرانی اثر و رسوخ بڑھا سکتی ہے۔

ایران حوثیوں کا اہم علاقائی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ امریکا اور دیگر ممالک تہران پر حوثیوں کو اسلحہ، تربیت اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب حوثی خود کو ایران کے ماتحت تنظیم قرار دینے کے بجائے اپنے مقامی سیاسی مقاصد رکھنے والی تحریک کہتے ہیں۔

حوثیوں اور ایران کی مذہبی روایات بھی مکمل طور پر یکساں نہیں ہیں۔ حوثیوں کی بنیاد زیدی شیعہ روایت میں ہے، جبکہ ایران میں اثنا عشری شیعہ مکتب فکر غالب ہے۔ اس لیے دونوں کے تعلقات میں مذہبی قربت کے ساتھ علاقائی اور سیاسی مفادات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

نومبر 2023 میں غزہ جنگ کے دوران حوثیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور اسرائیل کی جانب میزائل و ڈرون حملے شروع کیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ کارروائیاں فلسطینیوں کی حمایت میں کی جارہی ہیں، تاہم ان حملوں کے باعث متعدد بین الاقوامی جہاز ران کمپنیوں کو اپنے بحری راستے تبدیل کرنا پڑے۔

یمن کے قریب واقع آبنائے باب المندب عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے۔ اس راستے میں عدم استحکام سے ایشیا اور یورپ کے درمیان سامان اور توانائی کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے، جبکہ جہازوں کے سفر کا دورانیہ اور اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

اکتوبر 2026 میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور دیگر تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں سے متعلق نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔ سعودی فوجی اتحاد نے بعض میزائل روکنے کا اعلان کیا، جبکہ مختلف واقعات میں حملوں کی ذمہ داری اور ان کے نتائج کے بارے میں متضاد اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

حوثیوں کی عسکری طاقت کا ایک اہم پہلو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال ہے۔ یمن کے دشوار گزار پہاڑی علاقے اور مختلف مقامات پر قائم ٹھکانے بھی اس تنظیم کے خلاف فوجی کارروائیوں کو پیچیدہ بناتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی کوششوں سے 2022 میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد یمن کے کئی محاذوں پر لڑائی میں کمی آئی تھی، لیکن تنازع کا مستقل سیاسی حل سامنے نہیں آسکا۔ حالیہ علاقائی کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ یمن کی جنگ کے اثرات سعودی عرب کی سلامتی اور عالمی بحری تجارت تک پھیل سکتے ہیں۔

یوں حوثی تحریک کی موجودہ حیثیت کو صرف ایک مذہبی یا مقامی مسلح گروہ تک محدود نہیں سمجھا جاسکتا۔ یمن کی داخلی سیاست، سعودی عرب کے ساتھ طویل تنازع، ایران سے تعلقات اور اہم سمندری راستوں کے قریب اس کی عسکری موجودگی اسے مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال کا ایک اہم فریق بناتی ہے۔