مواد پر جائیں

کوئٹہ 23°C فجر 5:14 ظہر 12:18 عصر 4:23 مغرب 6:02 عشاء 7:21
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بین الاقوامی

آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا، ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہوجائے گی، ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر کا ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچانے کا دعویٰ، جنگ ختم ہونے پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی پیش گوئی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور ایران کے ساتھ جاری جنگ بہت جلد ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئے گی۔

آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا، ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہوجائے گی، ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر نے انتخابی مہم کے دوران مختلف اجتماعات اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کو کامیاب قرار دیا اور کہا کہ واشنگٹن اپنے مقاصد کے حصول کے قریب پہنچ چکا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق امریکی افواج نے ایران کی بحری اور فضائی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوج، ریڈار سسٹمز اور فضائی دفاعی تنصیبات بھی بڑے پیمانے پر متاثر ہوئی ہیں۔

امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم سمندری گزرگاہ پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے۔ تاہم ان کے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے قریب تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات اور حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو ایران کے خلاف کارروائیوں میں نیٹو کی مدد کی ضرورت نہیں اور امریکی فوج اپنے طور پر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے ایران کی قیادت کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متعدد اعلیٰ ایرانی عہدیدار اور فوجی قیادت کے مختلف درجوں کے افراد امریکی کارروائیوں میں مارے گئے ہیں۔ امریکی صدر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایرانی قیادت میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث اب یہ واضح نہیں کہ مذاکرات کس کے ساتھ کیے جائیں۔

امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ امریکی کارروائیوں نے ایران کے جوہری عزائم کو ناکام بنا دیا ہے، تاہم اس مؤقف کی آزادانہ بین الاقوامی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ٹرمپ نے جنگ کے جلد خاتمے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران بھی تنازع ختم کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق جنگ ختم ہوتے ہی توانائی کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوگی، جس سے صارفین کو فائدہ پہنچے گا۔

تاہم امریکی صدر نے جنگ بندی کی کوئی حتمی تاریخ، باقاعدہ معاہدے کی تفصیلات یا مذاکرات میں شریک ایرانی نمائندوں کے نام نہیں بتائے۔ اس لیے جنگ کے فوری خاتمے سے متعلق ان کا بیان فی الحال ایک سیاسی پیش گوئی ہے، نہ کہ طے شدہ سفارتی پیش رفت۔

دوسری جانب ایران آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اپنی شرائط پر اصرار کررہا ہے۔ ایرانی حکام اس سے قبل امریکی تجاویز کو ناکافی قرار دے چکے ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی اور بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات برقرار ہیں۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ تیل اور گیس کی عالمی رسد، قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست اثرانداز ہوسکتی ہے۔