مواد پر جائیں

کوئٹہ 25°C فجر 5:13 ظہر 12:18 عصر 4:25 مغرب 6:04 عشاء 7:23
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بین الاقوامی

یمن کی جنگ میں امریکا کی ممکنہ مداخلت، حوثیوں نے سخت دھمکی دے دی

حوثی رہنما محمد البخیتی نے امریکی فوجی کارروائی کی صورت میں خطے میں واشنگٹن کے مفادات کو نشانہ بنانے کا انتباہ دیا، سعودی ہوائی اڈوں اور تیل تنصیبات کو بھی ممکنہ اہداف قرار دے دیا۔

صنعا: یمن کے حوثی گروپ نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے یمن میں جاری جنگ میں فوجی مداخلت کی تو اسے خطے میں اپنے مفادات پر حملوں کی صورت میں سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یمن کی جنگ میں امریکا کی ممکنہ مداخلت، حوثیوں نے سخت دھمکی دے دی

حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے اپنے بیان میں کہا کہ یمن کے خلاف کسی بھی امریکی فوجی کارروائی کا فوری جواب دیا جائے گا اور اس کے اثرات صرف یمن تک محدود نہیں رہیں گے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی مداخلت سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کرسکتی ہے اور تنازع دوسرے علاقوں تک پھیلنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

سعودی عرب کی اہم تنصیبات بھی نشانے پر

محمد البخیتی نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور دیگر اہم مقامات پر کام کرنے والے افراد کو بھی ان علاقوں سے دور رہنے کی تنبیہ کی۔

حوثی رہنما نے ان مقامات کو ممکنہ فوجی اہداف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یمن کے خلاف کارروائیوں کا جواب دینے کے لیے ان کا گروپ مزید اقدامات کرسکتا ہے۔

یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور خطے میں فضائی سفر اور توانائی کی تنصیبات کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔

میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے گروپ نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے سعودی عرب کے مختلف اہم مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

ان کے مطابق حملوں میں ریاض کا شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈہ، دمام کا شاہ فہد ہوائی اڈہ اور سعودی تیل کمپنی آرامکو سے منسلک تنصیبات شامل ہیں۔

حوثی ترجمان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حملوں کے نتیجے میں فضائی آمدورفت متاثر ہوئی اور بعض بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے سعودی عرب کے لیے اپنی پروازیں محدود یا معطل کیں۔

تاہم ان تمام اہداف کو پہنچنے والے نقصان اور حملوں کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

سعودی عرب کا ردعمل، توانائی کی سلامتی پر تشویش

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے حالیہ حملوں کو غیر معمولی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے جواب میں مناسب اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے عالمی توانائی کی سلامتی کو درپیش خطرات کی جانب توجہ دلاتے ہوئے خبردار کیا کہ اہم توانائی تنصیبات پر حملے بین الاقوامی سطح پر بھی سنگین اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے خلیجی ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔

ایران کی ثالثی کی پیشکش

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔

ادھر یمن کے شہر تعز کے اطراف بھی سعودی قیادت میں اتحادی افواج اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں شدت آنے کی اطلاعات ہیں۔

حوثیوں نے بعض اہم راستوں پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم زمینی صورتحال اور ممکنہ جانی نقصانات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

مشرق وسطیٰ میں جاری اس کشیدگی کے دوران امریکا کی ممکنہ فوجی مداخلت ایک اہم سوال بن گئی ہے۔ حوثیوں کی تازہ دھمکی سے واضح ہوتا ہے کہ ایسی کسی کارروائی کی صورت میں تنازع مزید وسیع ہونے کا خدشہ موجود ہے۔