واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے اس کے خلاف مزید کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ امریکہ کیا کرنے والا ہے، اس کے لیے انتظار کیا جائے۔ تاہم امریکی صدر نے ممکنہ اقدامات کی نوعیت یا وقت کے بارے میں کوئی واضح اعلان نہیں کیا۔
امریکی ریاست الاسکا کے شہر واسیلا میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں سخت زبان استعمال کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی اقدامات کا انتظار کیا جائے، کیونکہ واشنگٹن کی برداشت اب جواب دے رہی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں اس مؤقف کو بھی دہرایا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ کے لیے بنیادی ترجیح یہی ہے کہ تہران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہ کرسکے۔
امریکی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے خلاف مزید امریکی فوجی کارروائی کے امکانات اور واشنگٹن کی آئندہ حکمت عملی کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ تاہم ٹرمپ کے تازہ بیان کو کسی نئے حملے کے باضابطہ حکم یا فوجی آپریشن کے آغاز کی تصدیق نہیں سمجھا جاسکتا۔
ٹرمپ الاسکا میں ری پبلکن امیدواروں کی انتخابی مہم میں شریک تھے۔ امریکہ میں تین نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں، جن میں کانگریس کی نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ ایران سے متعلق امریکی پالیسی بھی ان انتخابات سے قبل سیاسی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
دوسری جانب ایک امریکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ایران کے خلاف ایک بڑے ممکنہ آپریشن پر بات چیت ہوئی تھی۔ رپورٹ میں امریکی حکام اور معاملے سے واقف دیگر ذرائع کا حوالہ دیا گیا۔
تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے پر بات کی تھی۔ اس سے قبل ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ ایران کے بارے میں آئندہ اقدامات کا فیصلہ بہت جلد کیا جائے گا۔ ان بیانات کے باوجود واشنگٹن کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی حتمی تاریخ یا تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم سبب تہران کا جوہری پروگرام ہے۔ امریکی حکومت ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کو اپنی پالیسی کا بنیادی مقصد قرار دیتی ہے، جبکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے پُرامن مقاصد پر زور دیتا رہا ہے۔
ٹرمپ کی تازہ دھمکی نے دونوں ممالک کے تعلقات میں جاری تناؤ کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔ تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کہ امریکی صدر کے اشارے کا تعلق نئی فوجی کارروائی سے ہے، مزید معاشی پابندیوں سے یا کسی دوسرے دباؤ پر مبنی اقدام سے۔