سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کبھی کبھی سیاسی سفر کی تھکن محسوس ہوتی ہے، لیکن مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل دینے کے بعد احساس ہوا کہ ان میں اب بھی دم خم موجود ہے۔
ایک تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ 1991 میں سیاست کا آغاز کیا اور سیاسی زندگی میں کئی نشیب و فراز دیکھے۔ سیالکوٹ ان کی پہچان ہے اور شہریوں کی بہتری کے لیے کام کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔
خواجہ آصف نے مشرف اور پی ٹی آئی کے ادوار میں اپنی قید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نیب کے نمائندے انہیں ان کا جرم نہیں بتا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے گرفتار کرکے بعد میں الزام تلاش کرنے کا رویہ درست نہیں، انتقامی سیاست ملک کو فائدہ نہیں پہنچاتی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ میں کامیابی سے پاکستان کو عالمی پذیرائی ملی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارتی حکومت، فوج اور میڈیا نے بھی شکست تسلیم کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملکی دفاع اپنی قوت پر منحصر ہوتا ہے، بیرونی طاقتوں کے فوجی اڈے تحفظ کی ضمانت نہیں۔ پاکستان نے ایران اور عرب ممالک کے اختلافات دور کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔