مواد پر جائیں

کوئٹہ 16°C فجر 5:24 ظہر 12:16 عصر 4:09 مغرب 5:46 عشاء 7:07
آج کا ای پیپر ⁦28⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
پاکستان

پاکستان میں آبی منصوبوں پر 18 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ

آئندہ دس برس میں ڈیموں، نہروں کی بہتری اور سیلاب سے تحفظ کے لیے وفاقی وسائل درکار ہوں گے، 2029 تک پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کا ہدف مقرر۔

اسلام آباد: منصوبہ بندی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانی کے اہم بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور بہتری کے لیے آئندہ دس برس میں تقریباً 18 ارب ڈالر کی وفاقی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

پاکستان میں آبی منصوبوں پر 18 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ

رپورٹ میں 2029 تک پانی کے مؤثر استعمال کی شرح 40 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد کرنے اور کھیتوں تک پانی کی دستیابی 58.3 ملین ایکڑ فٹ سے 79 ملین ایکڑ فٹ تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

اڑان پاکستان کے تحت آبی تحفظ کے مجوزہ نظام میں آبپاشی کے انتظام، آبی ذخائر کی تعمیر، سیلاب سے تحفظ اور زیر زمین پانی کے استعمال سے متعلق اصلاحات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 15.318 ملین ایکڑ فٹ سے بڑھا کر 2029 تک 23.54 ملین ایکڑ فٹ کرنے کا ہدف ہے۔ موجودہ قابلِ استعمال ذخیرہ دریائے سندھ کے سالانہ بہاؤ کا صرف 11 فیصد بنتا ہے۔

سرکاری ترقیاتی پروگرام کے جاری منصوبوں سے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 9.821 ملین ایکڑ فٹ اضافے کی توقع ہے۔ اکھوڑی، شیوک اور اسکردو ڈیم سمیت مجوزہ منصوبے تقریباً 14.5 ملین ایکڑ فٹ کی مزید گنجائش فراہم کرسکتے ہیں۔

رپورٹ میں دریاؤں سے کھیتوں تک پانی کی تقسیم کی نگرانی اور جوابدہی بہتر بنانے کے لیے ارسا کے تحت مربوط انتظام کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

پاکستان میں استعمال کے لیے نکالے جانے والے میٹھے پانی کا تقریباً 95 فیصد زراعت میں صرف ہوتا ہے۔ پانی بچانے کے لیے ڈرپ اور اسپرنکلر آبپاشی کی حوصلہ افزائی، آبیانے میں اصلاحات اور فصلوں کے انتخاب کو دستیاب پانی کے مطابق بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔

زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی سبسڈی کو زیر زمین پانی کی رجسٹریشن اور مقررہ حدود کے مطابق استعمال سے منسلک کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پنجاب میں زیر زمین پانی کی سطح سالانہ نصف سے ایک میٹر تک کم ہورہی ہے۔

رپورٹ میں سیلاب کی پیشگی اطلاع کے نظام، گلیشیئرز کی نگرانی اور شہری گندے پانی کے کم از کم 25 فیصد کو صاف کرکے دوبارہ استعمال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اہداف کے حصول کے لیے تعمیراتی منصوبوں، قانونی اصلاحات اور پانی کے بہتر انتظام پر مشترکہ پیش رفت ضروری قرار دی گئی ہے۔