سنگاپور کے صدر تھرمن شنموگراتنم نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث نئی ڈگریاں حاصل کرنے والے نوجوانوں کو ملازمتوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خصوصاً ان شعبوں میں جہاں ابتدائی درجے کے کام خودکار نظام انجام دینے لگے ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سنگاپور کے صدر نے مصنوعی ذہانت کے عالمی معیشت اور روزگار پر ممکنہ اثرات کی جانب توجہ دلائی۔
انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی مختلف شعبوں میں کام کرنے کے روایتی طریقوں کو تبدیل کررہی ہے، جس کے نتیجے میں خاص طور پر نئے گریجویٹس کے لیے دستیاب ابتدائی ملازمتوں کی طلب متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
نئے گریجویٹس کے لیے چیلنج کیوں بڑھ رہا ہے؟
مصنوعی ذہانت کی مدد سے معلومات کا تجزیہ، دستاویزات کی تیاری، تحقیق اور کئی انتظامی نوعیت کے کام پہلے کے مقابلے میں کم وقت میں انجام دیے جاسکتے ہیں۔
ایسے کام جو ماضی میں نئے ملازمین کو سونپے جاتے تھے، اب بعض اداروں میں خودکار ٹیکنالوجی کے ذریعے انجام دینا ممکن ہورہا ہے۔ اس تبدیلی کے باعث نوجوانوں کے لیے عملی تجربہ حاصل کرنے کے روایتی مواقع متاثر ہوسکتے ہیں۔
تاہم مصنوعی ذہانت کا اثر تمام پیشوں اور صنعتوں پر یکساں نہیں ہوگا۔ بعض شعبوں میں ملازمتوں کی نوعیت تبدیل ہوسکتی ہے، جبکہ نئی ٹیکنالوجی سے متعلق مہارتوں کی طلب میں اضافہ بھی ممکن ہے۔
عالمی معاشی عدم مساوات بڑھنے کا خدشہ
صدر تھرمن شنموگراتنم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد اور نقصانات مختلف ممالک میں یکساں طور پر تقسیم نہیں ہوں گے۔
ان کے مطابق حکومتوں کو اس ٹیکنالوجی کے سماجی اور معاشی اثرات کا بروقت جائزہ لینا چاہیے، تاکہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر معیشتوں کے درمیان موجود عدم مساوات مزید نہ بڑھے۔
جن ممالک میں جدید ٹیکنالوجی، معیاری تعلیم اور تربیت کے بہتر مواقع موجود ہیں، وہ نئی تبدیلیوں سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہوسکتے ہیں، جبکہ محدود وسائل رکھنے والی معیشتوں کے لیے ان تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
تعلیم اور نئی مہارتوں کی اہمیت میں اضافہ
ماہرین کے نزدیک مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے تناظر میں نوجوانوں کی پیشہ ورانہ تربیت، ڈیجیٹل مہارتوں اور مسلسل سیکھنے کی صلاحیت کو زیادہ اہمیت حاصل ہورہی ہے۔
حکومتوں اور تعلیمی اداروں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ نصاب اور تربیتی پروگراموں کو بدلتی ہوئی معاشی ضروریات کے مطابق بہتر بنائیں، تاکہ نوجوان نئی ملازمتوں کے لیے خود کو تیار کرسکیں۔
مصنوعی ذہانت سے متعلق بنیادی تشویش صرف موجودہ ملازمتوں کے خاتمے کی نہیں بلکہ اس بات کی بھی ہے کہ نوجوانوں کو پیشہ ورانہ زندگی میں داخل ہونے اور تجربہ حاصل کرنے کے مناسب مواقع کس طرح فراہم کیے جائیں۔
سنگاپور کے صدر کی تنبیہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور حکومتوں کے سامنے معاشی ترقی کے ساتھ روزگار کے تحفظ اور افرادی قوت کی تربیت کا چیلنج بھی موجود ہے۔