تہران: سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے مذاکرات میں سہولت کاری کی پیشکش کردی ہے۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری بحرانوں کو فوجی کارروائیوں کے بجائے بات چیت اور سفارتی کوششوں کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس میں مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال، سعودی عرب پر حالیہ حملوں اور علاقائی امن و استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے گفتگو کے دوران کہا کہ تہران سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات شروع کرانے اور تنازع کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق موجودہ بحرانوں میں فوجی راستے پر اصرار اور سیاسی حل کو نظر انداز کرنا صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے بعد پہلا اہم رابطہ
دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت ہوا ہے جب یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران حوثیوں نے سعودی عرب کو متعدد مرتبہ نشانہ بنایا۔ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
اس حملے کے بعد سعودی عرب میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی کے مزید پھیلنے کا خطرہ بھی زیر بحث ہے۔
سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات 2023 میں چین کی ثالثی سے بحال ہوئے تھے۔ تاہم یمن کی صورتحال اور حالیہ علاقائی تنازعات دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے ایک اہم آزمائش بنے ہوئے ہیں۔
کیا مذاکرات شروع ہوں گے؟
ایران کی جانب سے مذاکرات میں سہولت کاری کی پیشکش کو کشیدگی کم کرنے کی ایک سفارتی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ سعودی عرب نے اس پیشکش پر کیا ردعمل دیا ہے۔
دونوں ممالک کی جانب سے مذاکرات کے لیے کسی باضابطہ طریقہ کار، مقام یا وقت کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔
موجودہ صورتحال میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان اعلیٰ سطح کا رابطہ اہم پیش رفت ہے، تاہم اس کے عملی نتائج کا انحصار آئندہ سفارتی اقدامات اور متعلقہ فریقوں کی آمادگی پر ہوگا۔