مواد پر جائیں

کوئٹہ 16°C فجر 5:13 ظہر 12:19 عصر 4:26 مغرب 6:05 عشاء 7:25
آج کا ای پیپر ⁦10⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بین الاقوامی

بھارت میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج، اہم سیاسی رہنماؤں سمیت سیکڑوں افراد گرفتار

چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے سیکڑوں مظاہرین زیر حراست، نئی دہلی میں انٹرنیٹ سروس معطل اور متعدد میٹرو اسٹیشنز بند کردیے گئے۔

نئی دہلی: بھارت میں ووٹر لسٹوں میں متنازع تبدیلیوں کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا، جہاں پولیس نے دارالحکومت نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے متعدد اہم سیاسی رہنماؤں سمیت سیکڑوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔

بھارت میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج، اہم سیاسی رہنماؤں سمیت سیکڑوں افراد گرفتار

مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ احتجاج کو روکنے کے لیے نئی دہلی کے مختلف علاقوں میں ہزاروں پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ اہم شاہراہوں اور مرکزی تجارتی علاقوں میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔

رپورٹس کے مطابق شہر کے بعض علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی، جبکہ متعدد میٹرو اسٹیشنز اور بازار بھی بند رہے۔

اہم سیاسی شخصیات بھی زیر حراست

پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے اور پارٹی کے سینئر رہنماؤں سورو داس اور آسوتوش رانکا کو حراست میں لے لیا۔

گرفتاری سے قبل جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں ابھیجیت دیپکے نے کہا تھا کہ ان کی گرفتاری کی صورت میں پارٹی رہنما اجنکیا شندے احتجاج کی قیادت کریں گے۔

حراست میں لیے گئے دیگر افراد میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رہنما دیپانکر بھٹاچاریہ، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن، سیاست دان یوگیندر یادو اور طلبہ تنظیم کی رہنما نیہا بورا بھی شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کو وسطی دہلی میں دھرنے کے دوران حراست میں لیا گیا، جبکہ عام آدمی پارٹی کے رہنما اور دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا۔

احتجاج کی وجہ کیا ہے؟

یہ مظاہرے بھارتی الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں میں کی گئی تبدیلیوں کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔

مخالف سیاسی جماعتوں اور ناقدین کا الزام ہے کہ ان تبدیلیوں سے وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو انتخابی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

احتجاج کے لیے نئی دہلی کے علاقے جنتر منتر کا انتخاب کیا گیا تھا، تاہم پولیس نے مظاہرین کی آمد سے پہلے ہی اس مقام کو بند کردیا۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف علاقوں میں چھوٹے مظاہرے شروع ہوگئے۔

حکمران جماعت کا ردعمل

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان سمبت پاترا نے احتجاج کو ناکام قرار دیتے ہوئے مظاہرین پر بدامنی پھیلانے کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے کہا کہ دارالحکومت میں ہونے والے مظاہروں کو پورے بھارت کی صورتحال کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے اور ملک میں معمول کے مطابق سرگرمیاں جاری ہیں۔

ووٹر لسٹوں میں تبدیلیوں کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات برقرار ہیں، جبکہ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور انتخابی عمل میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔