نئی دہلی: بھارت میں ووٹر فہرستوں سے کروڑوں شہریوں کے نام خارج کیے جانے کے تنازع نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ تک احتجاجی مارچ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
بھارتی کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے اپوزیشن جماعتوں، سول سوسائٹی اور شہریوں سے احتجاج میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کی شفافیت اور شہریوں کے حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانا ضروری ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کا منصوبہ ہے کہ وہ سپریم کورٹ پہنچ کر چیف جسٹس سوریہ کانت کو یادداشت پیش کریں، جس میں چیف الیکشن کمشنر کے استعفے، ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی روکنے اور مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جائے گا۔
تاہم بھارتی چیف جسٹس نے اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ان کے مطابق انتخابی فہرستوں سے متعلق مقدمات پہلے ہی عدالت میں زیر سماعت ہیں۔
13 کروڑ ووٹرز کے نام خارج ہونے پر تنازع
بھارت میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے دوران 13 کروڑ سے زائد نام خارج کیے جانے کی اطلاعات نے سیاسی تنازع کو شدت دی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں سے وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق انتخابی فہرستوں کی جانچ پڑتال کے دوران ایسے طریقہ کار اختیار کیے گئے ہیں جن سے اہل ووٹرز، خصوصاً غریب اور اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے حق رائے دہی پر اثر پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب بھارتی الیکشن کمیشن اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کا مقصد دوہرے، غیر متعلقہ اور نااہل اندراجات کو درست کرنا ہے۔
نئی دہلی میں احتجاج، ہزاروں افراد حراست میں
بھارتی دارالحکومت میں گزشتہ چند روز سے انتخابی تنازع کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی بھی چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کررہی ہے۔
ہفتے کے اختتام پر احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس نے ہزاروں افراد کو حراست میں لیا، جن میں اپوزیشن کے بعض ارکان بھی شامل تھے۔ بعد ازاں بیشتر مظاہرین کو رہا کردیا گیا۔
احتجاج کے پیش نظر نئی دہلی میں پولیس اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ متعدد اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں، جبکہ بعض میٹرو اسٹیشنوں کی بندش اور ٹریفک پابندیوں سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ انتخابی عمل کی شفافیت سے متعلق اپنے مطالبات پر قائم رہیں گی۔
دوسری جانب انتخابی فہرستوں کی نظرثانی سے متعلق درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ اس تنازع پر آئندہ عدالتی کارروائی اور سیاسی جماعتوں کے اقدامات کو اہم قرار دیا جارہا ہے۔