حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن میں ذباب اور اہم تزویراتی مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان، سعودی اتحاد کی فضائی مدد بھی جاری
یمن میں ایک بار پھر لڑائی میں شدت آگئی ہے، جہاں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی افواج نے حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کے دوران اہم آبی گزرگاہ باب المندب کے قریب کئی تزویراتی مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یمنی حکومتی افواج کے مطابق ہوم لینڈ شیلڈ فورسز اور جائنٹس بریگیڈز نے فضائی مدد کے ساتھ ذباب کے علاقے میں پیش قدمی کی اور اہم مقامات پر قبضہ کرتے ہوئے باب المندب کی جانب جانے والی بعض سپلائی لائنز اور راستے منقطع کر دیے۔
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ذباب کے بڑے حصے پر دوبارہ کنٹرول قائم کیا گیا جبکہ علاقے میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف آپریشن اور اہم مقامات کو محفوظ بنانے کا عمل جاری ہے۔
سعودی قیادت میں اتحاد بھی یمنی حکومتی افواج کی کارروائیوں کو فضائی مدد فراہم کر رہا ہے۔ اتحاد کے مطابق باب المندب کی فضائی نگرانی اور تحفظ کے لیے بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب حوثی ذرائع نے حکومتی افواج کی بعض پیش قدمیوں سے متعلق دعوؤں کی تردید بھی کی ہے، جبکہ میدانِ جنگ سے سامنے آنے والی تمام اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔
باب المندب دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے ملاتا ہے۔ یہاں جاری لڑائی میں شدت عالمی بحری تجارت اور خطے کی سلامتی کے حوالے سے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔