تہران: ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی نے متحدہ عرب امارات کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی سلامتی کیلئے امریکا اور اسرائیل پر انحصار دیرپا ثابت نہیں ہوگا۔
علی اکبر ولایتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ علاقائی تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ باہر سے حاصل کی جانے والی سیکیورٹی مستقل نہیں رہتی۔ انہوں نے امارات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمسایہ اپنی جگہ رہتا ہے جبکہ مہمان بالآخر چلا جاتا ہے۔
ان کا یہ بیان اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ دورۂ ابوظبی کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں انہوں نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی تھی۔
ایرانی عہدیدار نے خلیج میں واقع ابوموسیٰ، گریٹر تنب اور لیسر تنب کے متنازع جزائر سے متعلق اماراتی دعوؤں کو بھی مسترد کردیا۔ ایران ان جزائر کو اپنی سرزمین قرار دیتا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات ان پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔
اس سے قبل ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے بھی نیتن یاہو کی امارات میں میزبانی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس طرح امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی امارات کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کرسکی، اسی طرح اسرائیلی وزیراعظم کی میزبانی کے بھی مثبت نتائج نہیں ہوں گے۔
ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان حالیہ عرصے میں علاقائی سلامتی، اسرائیل کے ساتھ امارات کے تعلقات اور متنازع خلیجی جزائر سمیت متعدد معاملات پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔