ملک بھر میں بادل برسنے کو تیار، محکمہ موسمیات کی خطرناک وارننگ
ملک بھر میں مون سون کی بارشوں کا نیا اور طاقتور سلسلہ شروع ہونے والا ہے، جس کے پیش نظر محکمہ موسمیات نے 19 جولائی سے شدید بارسوں کی پیشگوئی کر دی ہے۔ دوسری جانب پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بھی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبے بھر کے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب سے آنے والی نم آلود اور مرطوب ہوائیں مسلسل ملک کے بالائی اور وسطی حصوں میں داخل ہو رہی ہیں، جن کی شدت میں ہفتہ اور اتوار کے دوران مزید اضافے کا امکان ہے۔ اس سسٹم کے تحت 19 سے 23 جولائی کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، مری، خطہ پوٹھوہار، خیبرپختونخوا، پنجاب، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارشیں متوقع ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث راولپنڈی سمیت پنجاب کے کئی بڑے شہروں کے نشیبی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں اور اربن فلڈنگ کا سنگین خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، بلوچستان کے مختلف اضلاع جن میں ژوب، بارکھان، موسیٰ خیل، لورالائی، سبی اور زیارت شامل ہیں، وہاں بھی بادل برسنے کی توقع ہے، جبکہ سندھ کے بیشتر علاقوں میں فی الحال موسم گرم اور خشک رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور کی بات کی جائے تو وہاں حبس اور گرمی کی لہر برقرار ہے، جہاں موجودہ درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ آنے والے دنوں میں پارہ 39 ڈگری تک جا سکتا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ملتان اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ مری، گلیات، آزاد کشمیر اور شمال مشرقی پنجاب کے مقامی ندی نالوں بشمول نالہ لئی میں طغیانی آ سکتی ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کریں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے احتیاط برتیں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں امدادی ٹیموں کی ہدایات پر عمل کریں۔