سپریم کورٹ نے عمران خان کے حوالے سے سب کو بڑا سرپرائز دے دیا
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے فیملی اور ذاتی معالجین کی ملاقات کے کیس میں بڑا اور اہم حکم جاری کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر اسلام آباد کے الشفاء اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ عدالت نے عمران خان کی ان کی بہن عظمیٰ خان اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان سے فوری ملاقات کا بھی حکم دیا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے میڈیکل رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے انتہائی تشویشناک انکشاف کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی نبض اور دل کا نظام نارمل نہیں ہے اور جیل میں ان کے وائیٹل آرگنز (اہم اعضاء) متاثر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ عدالت نے حکومت کو سخت آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے واضح کیا کہ بہنوں اور معالجین سے ملاقات کروانا کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے، اور ریاست قانون کی خلاف ورزی نہیں کر سکتی۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے آرڈر کی مخالفت کی، تاہم سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا تمام تر میڈیکل ریکارڈ اور گزشتہ 3 سال کے دوران کروائی گئی تمام ملاقاتوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔ وکیلِ صفائی کی جانب سے ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک نہ کرنے کی مکمل یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔