کیا پاکستان امریکا اور ایران میں صلح کروائے گا؟ اہم خبر آگئی
تہران: ایران نے امریکا کے ساتھ طویل عرصے سے معطل مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے اپنے فیصلے اور موقف سے پاکستان کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق تہران انتظامیہ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ گفتگو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ تاہم ایران نے شرط عائد کی ہے کہ یہ بات چیت پہلے سے طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی روشنی میں ہی کی جائے گی۔
ایرانی پلان کے مطابق مذاکرات تین مراحل پر مشتمل ہوں گے:
پہلا مرحلہ: آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور سیکیورٹی معامله۔
دوسرا مرحلہ: مختلف ممالک میں منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی۔
تیسرا مرحلہ: ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی بات چیت۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور قطر اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کی منتقلی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے لیے قومی سلامتی اور خودمختاری سب سے مقدم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران مذاکراتی عمل کے دوران ایران پر تین بار حملے کیے گئے اور معاہدے کے باوجود منجمد اثاثے واگزار نہیں کیے گئے، جس سے اعتماد سازی کے عمل کو شدید نقصان پہنچا۔ دوسری جانب ان تمام دعووں پر فی الحال امریکا کی طرف سے کوئی باضابطہ تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔