مشرقِ وسطیٰ میں بڑی پیش رفت: جنگ کے بادل چھٹنے لگے، ایران امریکا سے مذاکرات کے لیے تیار
مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے خاتمے اور امریکا و ایران کے درمیان معطل شدہ مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں میں اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک نے ثالثین کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجاویز پر اپنے جوابات پاکستان اور قطر کے حوالے کر دیے ہیں، جس کے بعد خطے میں عارضی طور پر فوجی کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔
عرب نشریاتی ادارے العریبیہ کے مطابق ایران نے پاکستان کو باضابطہ طور پر یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی روشنی میں جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ دوبارہ میزِ عدل پر بیٹھنے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق تہران مذاکرات میں بالترتیب آبنائے ہرمز کی صورتحال، اپنے منجمد اثاثوں کی واگزاری اور پھر جوہری پروگرام پر بات چیت کا خواہاں ہے، تاہم اس نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی نئی بحری راہداری کی تجویز کو حتمی طور پر مسترد کر دیا ہے۔
دوسری جانب سفارتی کوششوں کی پیش رفت کے بعد گزشتہ دو راتوں سے امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے معطل کر رکھے ہیں۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کی جانب سے بمباری رکنے کے بعد ایران نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے فاکس نیوز کو بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے اور بات چیت کو وقت دینے کے لیے ایران پر عارضی طور پر حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور قطر نے دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر دونوں فریقوں کو 10 روزہ عارضی جنگ بندی کی نظرثانی شدہ تجویز پیش کی ہے۔ اس منصوبے کے تحت عمانی سمندری حدود میں واقع جنوبی بحری راستہ ایرانی حملوں سے محفوظ رہے گا جبکہ ایرانی سمندری حدود کا شمالی راستہ امریکی بحری ناکہ بندی سے آزاد رہے گا۔
اس کے علاوہ امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ کا کہنا ہے کہ تجاویز میں آبنائے ملاکا کی طرز پر ایران کو مخصوص بحری خدمات کے عوض مناسب سروس فیس وصول کرنے کی اجازت دینے کا آپشن بھی شامل ہے، جسے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کی زیرِ نگرانی ایک مشترکہ فنڈ میں رکھا جائے گا۔
واضح رہے کہ 17 جون کو پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی ثالثی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ’اسلام آباد میمورنڈم‘ طے پایا تھا، جسے الزامات کے بعد 8 جولائی کو معطل کر دیا گیا تھا۔ اس معطلی کے بعد 12 جولائی سے امریکی فورسز نے ایران پر مسلسل 13 راتوں تک بمباری کی جبکہ ایران نے بھی خلیجی ممالک میں موجود امریکی اہداف پر حملے کیے۔ موجودہ پیش رفت کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اسی تعطل کو ختم کر کے طویل المدتی حل تلاش کرنا ہے۔