Tameerewatan
tameerewatan

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تیز ترین اضافہ، عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم گر گیا

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تیز ترین اضافہ، عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم گر گیا

اسلام آباد: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اور بے تحاشا اضافے نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ محض چھ دنوں کے اندر ڈیزل اور پٹرول کے ریٹس جس تیزی سے اوپر گئے ہیں، اس نے نہ صرف سفری اخراجات بڑھا دیے ہیں بلکہ روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو بھی آگ لگا دی ہے۔

اگر صرف گزشتہ تین دنوں کا جائزہ لیا جائے تو ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 20 روپے 69 پیسے فی لیٹر کا بھاری اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 375.04 روپے تک پہنچ گئی ہے (جو اس سے قبل 354.35 روپے تھی)۔ دوسری جانب پٹرول بھی پیچھے نہ رہا اور اسی عرصے کے دوران 11 روپے 32 پیسے مہنگا کر دیا گیا۔ حالانکہ درمیان میں صرف ایک دن نام نہاد طور پر 35 پیسے کی معمولی کمی کی گئی تھی، لیکن تازہ جھٹکے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 315.80 روپے سے چھلانگ لگا کر 327.12 روپے فی لیٹر ہو چکی ہے۔

اگر اس تمام صورتحال کا مجموعی حساب لگایا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ بحران کتنا شدید ہے:

ڈیزل میں کل اضافہ (6 دن): 52 روپے 19 پیسے فی لیٹر

پٹرول میں کل اضافہ (6 دن): 16 روپے 76 پیسے فی لیٹر

 ڈیزل کی قیمتوں میں اتنے بڑے پیمانے پر اضافے کا سیدھا اثر گڈز ٹرانسپورٹ اور کرایوں پر پڑتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ اور مال برداری مہنگی ہونے سے سبزیوں، دالوں اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مزید آباؤ اجداد کی حد تک اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

عوام کا کہنا ہے کہ ایک طرف بجلی کے بھاری بل اور دوسری طرف گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا ایندھن پہنچ سے باہر ہونا، ان کے لیے اب دو وقت کی روٹی پورا کرنا بھی محال بنا رہا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More