Tameerewatan
tameerewatan

ڈیجیٹل ظالمانہ پالیسی کا کوئی ایک فائدہ ثابت کر دیں، ہم لبیک کہیں گے، بلوچستان میڈیا فورم کا میر سرفراز بگٹی کو کھلا چیلنج

ڈیجیٹل ظالمانہ پالیسی کا کوئی ایک فائدہ ثابت کر دیں، ہم لبیک کہیں گے، بلوچستان میڈیا فورم کا میر سرفراز بگٹی کو کھلا چیلنج

پرنٹ ، الیکٹرانک ، سوشل میڈیا سے وابستہ کارکن صحافیوں ، نامہ نگاران اور وابستہ کارکنوں کی نمائندہ تنظیم ” بلوچستان میڈیا فورم ” نے بگٹی سرکار کی متنازعہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے جاری کردہ اعلامیہ میں ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کو معاشی قتل عام پالیسی قرار دیتے ھوئے کہاگیا ہے۔ اس پالیسی سے مقامی اخبارات جو مدتوں سے بلوچستان اور عوام کی خدمت میں سرگرم عمل ہیں۔ انھیں بند کرنے کی سازش کی گءہے۔ اس عمل سے مقامی اخبارات سے وابستہ درجنوں سنئیر صحافی ، دفتری ملازمین ، پرنٹنگ پریس کے درجنوں ملازمین ، ھاکرز ، مختلف علاقوں میں بطور نامہ نگاران صحافیانہ خدمات انجام دینے والے صحافی بیروزگار ھورہے ہیں۔ اور صوبے سے حقیقی صحافت کا باب بند ھونے والا ہے۔ جس کی تمام تر زمہ داری بگٹی سرکار پر عائد ھوتی ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے۔

 

کہ بگٹی سرکار کی دیگر ناکام ، غیر سنجیدہ ، اور غلط پالیسیوں اور فیصلوں کی طرح ڈیجیٹل میڈیا پالیسی بھی بلوچستان اور عوام دشمن فیصلہ ہے۔ جس سے بلوچستان کو کوئی فائدہ تو نہیں البتہ نقصان ضرور ہے۔ اعلامیہ میں سیاسی جماعتوں ، ٹرانسپورٹرز، تاجر برادری ، ٹریڈ یونینز ، وکلا برادری ، سماجی تنظیموں ، انسانی حقوق کے اداروں اور تنظیموں اور صوبے بھر کے عوام سے اپیل کی گئی ہے۔

کہ وہ اس ظلم کیخلاف مقامی اخبارات اور ان سے متعلق سینکٹروں کارکنان کیلئے آواز بلند کریں۔ جو ان پر فرض بھی ہے۔ اعلامیہ میں وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے اپیل کی گئی ہے۔ کہ وہ متنازعہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی منسوخ کرکے اپنی حکومت کی کارکردگی میں کوئی تو اچھا شامل کریں ۔ تاکہ تاریخ انھیں یاد رکھے۔ ورنہ اقتدار کے چند دن رہ گئے ہیں۔ اس کے بعد میر سرفراز بگٹی ان سینکڑوں صحافیوں ، اخباری کارکنان ، اور مقامی اخبارات کے مالکان کا سامنا کیسے کرینگے۔ جن کی بیروزگاری اور معاشی بدحالی کا سبب بن رہے ہیں۔ وگرنہ میر سرفراز بگٹی اس ظالمانہ پالیسی کا بلوچستان اور عوام کو کوئی فائدہ ثابت کریں۔ ہم لبیک کہنے والوں کی فہرست میں صف اول میں ھونگے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More