رات کو مبارکباد، صبح ٹی وی پر رونا؛ مولانا فضل الرحمان کا حافظ طاہر اشرفی پر زوردار طنز
اسلام آباد: جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مقتدر حلقوں، حکومت اور بعض مذہبی رہنماؤں پر شدید ترین تنقید کی ہے۔ انہوں نے چیئرمین علماء کونسل حافظ طاہر اشرفی کا نام لیے بغیر طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک مولوی صاحب رات کو میرے ساتھ کھانے پر بیٹھ کر جلسے کی مبارکباد دیتے ہیں اور اگلے ہی دن (ٹی وی پر) رو رہے ہوتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے اسٹیبلشمنٹ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جس افسر کے دفتر سے ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا، وہ معافی مانگے۔ انہوں نے سنگین الزام عائد کیا کہ مقتدر طبقہ اپنے جرائم چھپانے کے لیے شہداء کے پاک خون کو بطور ایندھن استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “اگر ملک کا سپاہی قربانی دیتا ہے تو وہ اسی لیے بھرتی ہوا ہے۔ تم نے میرے علماء اور استاد مولانا حسن جان کو شہید کیا۔ باجوڑ میں، میں نے اکیلے ایک سو جنازے اٹھائے، کیا تم کبھی میرے جنازوں پر روئے ہو؟”
سربراہ جے یو آئی (ف) نے ملک کی سیکیورٹی صورتحال اور پولیس کے اندر بڑھتی ہوئی مایوسی کا تذکرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بنوں اور لکی مروت میں پولیس اب اپنے افسران کی بات نہیں مان رہی، جبکہ ٹانک کی ایک مسجد میں پولیس اہلکاروں نے باقاعدہ قرآن پاک پر حلف اٹھایا ہے کہ ان کے جنازے میں فوج شریک نہیں ہوگی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہم ملک میں البدر اور الشمس کی طرح نئے لشکر بنا کر عوام کے لیے نئی دشمنیاں پیدا کر رہے ہیں؟
انتخابات میں بدترین دھاندلی کا الزام دہراتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے انکشاف کیا کہ حکومتی حلقے ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور انہیں بلوچستان میں حکومت میں شامل ہونے کی پیشکش کی گئی تھی، جبکہ خیبر پختونخوا میں ‘لوٹوں’ کے ذریعے حکومت بنانے کا لالچ دیا گیا، جسے انہوں نے صاف مسترد کر دیا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ انہیں ان کے ماں باپ نے سرنڈر کرنے کے لیے پیدا ہی نہیں کیا، اور وہ پیچھے ہٹنے کے بجائے ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔