ماسکو کا بڑا پلان: پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے لیے روس میدان میں آ گیا، اویس لغاری کا بڑا اعلان
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کا تاریخی منصوبہ پاکستان اور روس کے درمیان دیرینہ صنعتی تعاون اور لازوال دوستی کی ایک نئی اور مضبوط علامت بننے جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں پاک روس تعلقات پر منعقدہ ایک اہم سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ دونوں ممالک توانائی، تجارت، ہوابازی، تعلیم اور سرمایہ کاری سمیت کئی اہم شعبوں میں اپنے تعلقات کو بے مثال حد تک وسعت دینے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔
وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ فروری 2025 میں روسی کمپنیوں، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور او جی ڈی سی ایل کے درمیان ہونے والے معاہدے نے توانائی کے شعبے میں بڑی پیشرفت کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، روس کے نامور ‘ہائیڈرو گروپ’ نے پاکستان کے پن بجلی منصوبوں کی جدید کاری اور نئے ہائیڈرو پاور پلانٹس کے ڈیزائن تیار کرنے میں باقاعدہ انجینئرنگ پارٹنر بننے کی شدید خواہش ظاہر کی ہے۔
تجارت کو فروغ دینے کے لیے اویس لغاری کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک اب کارگو پروازوں، کوڈ شیئرنگ اور ٹرانزٹ روٹس کے بڑے انتظامات پر غور کر رہے ہیں، جس سے دوطرفہ تجارت کو چار چاند لگ جائیں گے۔ اس کے علاوہ، عوامی روابط بڑھانے کے لیے جون میں دونوں ممالک کے درمیان ایک ‘ری ایڈمیشن معاہدے’ پر بھی دستخط کیے جا چکے ہیں، جس کے بعد انہوں نے روسی شہریوں کو موسمِ بہار اور خزاں میں پاکستان کی سیاحت کرنے کی خصوصی دعوت دی ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس وقت 187 پاکستانی طلبہ روس کی مختلف جامعات میں علم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے روس سے بالخصوص سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید تعلیمی وظائف (اسکالرشپس) دینے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے آخر میں بتایا کہ پاک روس بین الحکومتی کمیشن کا اگلا اہم ترین اجلاس ماسکو میں منعقد ہوگا، جہاں سیمینار کی سفارشات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پالیسی سازوں کے سامنے رکھا جائے گا۔