بلوچستان کے عوام سب جانتے ہیں، بی این پی کا سیاسی حریفوں پر سخت وار، حقیقی مسائل پر جنگ کا اعلان
بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات اور سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ نے حق دو تحریک کے رہنما مولانا ہدایت الرحمان کے بیانات پر شدید اور سنسنی خیز ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ہدایت الرحمان سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے، کیونکہ ان کا تعلق دوسری صف کے رہنماؤں سے ہے اور وہ صرف وہی بولتے ہیں جو پہلے سے طے شدہ بیانیے کا حصہ ہوتا ہے۔
آغا حسن بلوچ کا کہنا تھا کہ ایسی غیر ضروری اور فضول باتوں پر وقت ضائع کرنے کے بجائے بلوچستان کے اصل اور سنگین مسائل پر بات ہونی چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ صوبے کے عوام انتہائی باشعور ہیں اور وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ کون حقیقی سیاست کر رہا ہے اور کون کس کا بیانیہ آگے بڑھا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان اس وقت جن سنگین اور معاشی بحرانوں سے گزر رہا ہے، ان کے حل کے لیے سنجیدہ اور باامقصد اقدامات کی ضرورت ہے۔ آغا حسن بلوچ نے تمام سیاسی رہنماؤں اور ذمہ دار حلقوں کو مشورہ دیا کہ وہ آپسی لفظی جنگ اور پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے عوامی مسائل کو اجاگر کریں اور صوبے کے حقوق کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔