بلوچستان کا نابغہ: گوریلا کمانڈر سے پیپلز پارٹی کے جیالے تک
وقت سر پٹ دوڑ رہا ہے اس کی سرشت میں ہے کہ یہ کسی بھی بڑے سے بڑے حادثے/ واقعے پر تھمتا نہیں بلکہ جوں کا توں جاری رہتا ہے اسی طرح یہ ماضی کو بناتا ہے حال کو جھیلتا ہے اور بغیر کسی اگر مگر کے مستقبل کو اپنی آغوش میں سنبھالنے کیلئے تیار رہتا ہے۔
یہ سب ماضی، حال اور مستقبل مل کر انسان کی زندگی بناتے ہیں۔ انسانی زندگیاں معاشرت اور معاشرے بناتے ہیں اور یہ معاشرے مختلف اشکال اختیار کر کے مختلف تہذیبوں کے وجود کے اسباب بنتے رہے ہیں۔ کرہ ارض پر مختلف تہذیبیں پنپ کر بام عروج پا کر پھر زوال کا شکار ہو کر اوندھے منہ گری ہیں اور ان میں سے زیادہ تر آج تک اوندھے منہ ہی پڑی ہوئی ہیں۔ مختلف تہذیبوں کے پنپنے، انہیں غاصب و جابر سے بچانے اور عوام دوست بنانے کیلئے انقلابی اقدامات و موثر اصلاحات اٹھانے کا سہرا بعض دور اندیش و انقلابی شخصیات کے مرہون منت ہے۔
پاکستان دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر وجود میں آیا، یہاں کے باشندوں نے طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے عوض نو آبادیاتی نظام / دور سے نجات حاصل کی۔ چونکہ پاکستان وقت کے رائج تہذیبی نظام جمہوریت کے تحت قائداعظم کی رہنمائی میں وجود میں آیا اور اس کے بانیوں نے اس کا کار سرکار چلانے کیلئے جمہوری نظام کو ہی نظام حکومت گردانا، لیکن مختلف طبقاتی و مفاداتی گروہوں کے کشمکش کے درمیان جمہوریت سینڈوچ بنی رہی جو بالآخر ایوبی مارشل لا پر منتج ہوئی۔ اس سلسلے کو یحییٰ خان، ضیاء الحق اور مشرف نے دوام بخشا۔
مذکورہ مارشل لاز عوام کے حق حکمرانی کے حق کو پاؤں تلے روندتے رہے جس کا خمیازہ معاشرے کا ہر فرد بھگتتا رہا اور معاشرے کی مختلف سمتوں کی ترقی کو بریک لگی رہی۔
یہ غیر جمہوری اور غیر جمہوری سوچ رکھنے والے سرکار عوام کو زیر عتاب لاتے رہے اور ان کے حق حکمرانی پر چڑھ دوڑتے رہے۔ اس دوران بعض جرات مند اور جری کردار ببانگ دہل عوام کے حقوق کیلئے مزاحمت کرتے رہے اور وقت کے ظالموں کو ڈنکے کی چوٹ پر چیلنج کرتے رہے۔ ان ناموں کی فہرست میں ایک نمایاں نام بسم اللہ خان کاکڑ ہیں۔
بسم اللہ خان کاکڑ نے بلوچستان کے کاکڑستان بلٹ کے ضلع، قلعہ عبداللہ کے حبیب زئی گاوں میں 1946 میں آنکھ کھولی۔ ان کا خاندان مالی و طبقاتی لحاظ سے ایک عام مگر شعور و تربیت کے حوالے سے ایک غیور خاندان تھا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے دسویں اور گیارہویں جماعت کے تعلیمی سلسلے کیلئے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کا رخ کیا۔ مزاحمتی و تخلیقی سوچ اور بہادری ان کی فطرت میں تھی۔ گھریلو تربیت نے ان صفات کو نکھار دیا تھا۔ ایک شخص ساٹھ اور ستر کی دہائی میں انقلابی سوچ کا حامل ہو، تخلیقی ذہن کا مالک ہو، اور نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہا ہو تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کا وقت کے انقلابی ادب سے واسطہ نہ ہو۔
سو، بسم اللہ خان کاکڑ نے بھی تب کے انقلابی ادب کو، گویا، گھول کر پی لیا۔ بسم اللہ خان کاکڑ گفتار کے نہیں بلکہ عملی میدان اور کردار کے شہسوار تھے اس لئے وہ اس پڑھے ہوئے ادب کے تراشے گئے مواد کو عملی جامہ پہنانا چاہتے تھے۔ وہ عام عوام، پسے ہوئے طبقات کیلئے سماجی انصاف، اور ’’چھوٹی‘‘ قومیتوں کے حقوق اور اختیارات کے علمبردار تھے۔ ان قومیتوں کیلئے انہوں نے اپنے طالب علم ساتھیوں کے ساتھ مل کر 1968 میں PSF پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی۔
وہ آل پاکستان سٹوڈنٹس یونین کے قیام میں بھی پیش پیش تھے۔ 1969 میں بسم اللہ خان کاکڑ PSF کے پہلے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ بعد ازاں بسم اللہ خان کاکڑ اور ان کے ساتھیوں کی عبدالولی خان سے ملاقات ہوئی اور پھر پی ایس ایف نیپ کی اتحادی بنی۔ انہوں نے غیر سیاسی کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان کو ترقی پسند سیاست سے روشناس کرایا، غیر سیاسی، قبائلی، سادہ لوح عوام سمیت طالب علموں کو حقیقی ترقی پسند اور خوددار سیاست کے گر سکھائے۔
اسی دوران مختلف داخلی سیاسی تضادات اور بیرونی سازشی وجوہات کے سبب ملک دو لخت ہونے جیسے بدقسمت سانحے سے دو چار ہوا، جس کے اثرات باقی ماندہ پاکستان پر بھی پڑے۔ اس وقت کی حکومت نے بنگال کی علیحدگی کے تجربے کو دیکھتے ہوئے تمام مخالف آوازوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کیا اور ان پر زمین تنگ کر دی گئی، انہیں جیلوں میں ڈالا گیا۔
سیاست، جو، بسم اللہ خان کاکڑ جیسے لوگوں کیلئے ایک مقدس پیشہ کی شکل اختیار کر گئی تھی، اس کے دروازے ان پر بند کر دیئے گئے اور ان کی تنظیم پی ایس ایف کی اتحادی نیپ بھی زیر عتاب آگئی، ان ہیجانی حالات میں عبدالولی خان نے کوئٹہ کا دورہ کیا، بسم اللہ خان کاکڑ کے مطابق، اس دورے میں عبدالولی خان نے پی ایس ایف کے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب کبھی کسی قوم پر اس جیسا برا وقت آن پڑے تو جوانوں کے ہاتھوں میں قلم نہیں بلکہ بندوق جچتی ہے۔
عبدالولی خان کی اس بات کو بسم اللہ خان کاکڑ اور ان کے دیگر ساتھیوں نے پلے باندھ لیا اور سخت حکومتی اقدامات کے ردعمل میں بسم اللہ خان کاکڑ اپنے ہم فکر ساتھیوں سمیت، افغانستان چلے گئے جہاں بسم اللہ خان کاکڑ ایک گوریلا کمانڈر بن گئے اور بارڈر کے علاقے آسو مرغہ میں ایک کیمپ بنا لیا۔ وہاں سے ان کے گوریلا جنگجو مختلف کارروائیاں کرتے رہے۔ اسی طرح کا ایک کیمپ جلال آباد کے ساتھ، اجمل خٹک اور افراسیاب خٹک کی سرپرستی میں بھی سرگرم تھا۔
بسم اللہ خان کاکڑ 1974 سے 1978 تک بطور گوریلا کمانڈر یہ کیمپ چلاتے رہے لیکن جب پاکستانی حکومت نے تمام فراریوں کیلئے عام سیاسی معافی کا اعلان کیا تو بسم اللہ خان کاکڑ بھی یہ کیمپ ختم کر کے واپس پاکستان آگئے اور یہاں جمہوریت، عوام، پسے ہوئے طبقات اور چھوٹی قومیتوں کے حقوق اور اختیارات کیلئے سیاسی طور پر پھر سے سرگرم ہوگئے اور دوبارہ ایک مقدس سیاست کرنے میں مشغول ہوگئے، وہ افغانستان میں ثور انقلاب کے زبردست حامی تھے۔
ان کا نور محمد ترکئی سے نظریاتی تعلق تھا لیکن روسی مداخلت اور افغانوں پر اپنی مرضی تھوپنے کے شدید مخالف تھے جبکہ اس وقت کے قوم پرست رہنما بڑی حد تک روسی مداخلت کے کھلم کھلا حامی تھے۔ دیگر وجوہات کیساتھ ساتھ یہ سب سے بڑی وجہ بنی کہ بسم اللہ خان کاکڑ نے تمام عمر کیلئے پشتون قوم پرست پارٹیوں سے اپنا سیاسی ناطہ توڑ دیا اور ان کے دیگر گوریلا ساتھیوں میں سے بیشتر واپس قوم پرست پارٹیوں، خصوصاً عوامی نیشنل پارٹی کا حصہ بن گئے۔
بعد میں بسم اللہ خان کاکڑ میر غوث بخش بزنجو کی پاکستان نیشنل پارٹی کا حصہ بھی رہے لیکن جب وہ پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی، اپنا حقیقی وجود کھو گئی تو بسم اللہ خان کاکڑ نے اپنے نظریاتی و اٹل سماجی جمہوری سوچ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور مرتے دم تک پیپلز پارٹی سے ہی وابستہ رہے۔ پیپلز پارٹی میں بھی موصوف بہت ہی اہم اور اعلیٰ عہدوں پر رہے، بے نظیر بھٹو صاحبہ کے قریبی ساتھیوں میں سے رہے اور ایک بار صوبائی وزیر بھی رہے۔ مگر کبھی بھی ان عہدوں کو دولت جمع کرنے کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ ان عہدوں کی بدولت مقدس سیاست کرتے رہے اور عوام کے درمیان رہ کر مختلف شکلوں میں عوام کی خدمت کرتے رہے۔ انہیں عملی کردار سے سیاست کے مقدس روپ سے روشناس کرواتے رہے۔
پیپلز پارٹی میں بھی انہوں نے پسے ہوئے طبقات، چھوٹی قومیتوں کے حقوق اور اختیارات کے لیے تاریخ ساز جدوجہد کی۔ مشرف دور میں جب پہلی بار قومی انتخابات ہو رہے تھے تو ان سے کہا گیا کہ آپ مسلم لیگ (ق) میں شمولیت اختیار کر لیں یا کم ازکم پیپلز پارٹی کی ٹکٹ کی بجائے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیں اور اس صورت میں آپ کو مرکزی سیٹ کیساتھ ساتھ مرکزی وزارت بھی عطا کی جائیگی لیکن بسم اللہ خان کاکڑ نے اس آفر کو ٹھکرا دیا اور پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ہی الیکشن لڑے۔
اس کے بعد ان پر زمین تنگ کر دی گئی۔ وہ اپنے ساتھیوں کی مدد سے دبئی منتقل ہوگئے اور وہاں وہ بینظیر بھٹو صاحبہ کیساتھ ملکر تنظیمی معاملات چلاتے رہے، ان کے مقدس،ح قیقی اور نظریاتی سیاست سے دلی لگاء، سیاست کو عبادت سمجھ کر اور اس عبادت کو پوری ایمانداری اور خلوص سے ادا کرنے کے، ان کے شدید مخالفین بھی معترف ہیں۔
بسم اللہ خان کاکڑ نے ہمارے خطے میں رائج تہذیب کے مختلف ستونوں کی مضبوطی کیلئے بیسویں صدی اور اکیسویں صدی کے پہلے دو عشروں میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ بلوچستان کے کاکڑستان بلٹ کے اس فرزند نے حقوق و اختیارات کی منصفانہ تقسیم، پسے ہوئے طبقات، اور سماجی انصاف کیلئے جو جدوجہد کی، وہ ایک سماجی جمہوری نظام کے نفاذ کے ارد گرد گھومتی ہے۔
حقیقی سماجی جمہوریت اور قومیتوں کے درمیان وسائل اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم کیلئے بسم اللہ خان کاکڑ نے یحییٰ خان، ضیاء الحق اور مشرف آمریت کی جیلیں کاٹیں اور اس مقدس مقصد کیلئے مذکورہ مطلق العنان حکمرانوں کی حکمرانی کے دوران ان کے ٹارچرز اپنے جسم پر سہے لیکن حقیقی سماجی جمہوری سوال اور قومیتوں کے حقوق سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔
بیشتر دانا لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دنیا کی معلوم تاریخ کی جتنی بھی تہذیبیں ظہور پذیر ہوئی ہیں ان سب میں سے بہترین اور عوامی نظام حکومت جمہوریت ہی ہے، موجودہ رائج تہذیب کی ضامن بھی جمہوریت ہے اور پاکستان کی جدیدیت، ترقی اور بقا کی ضامن بھی یہی حقیقی جمہوریت ہے۔
جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والا یہ تاریخی کردار 22 دسمبر کو خالق حقیقی سے جا ملا اور 23 دسمبر کو انہیں اپنی آبائی گاؤں، حبیب زئی، میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ بسم اللہ خان کاکڑ نے اپنے پیچھے جائیداد، بنگلے اور کاروبار نہیں چھوڑے بلکہ آئندہ نسلوں کیلئے مقدس، فقید المثال اور لازوال سیاسی نقوش چھوڑے ہیں، جنہیں اپنا کر آئندہ نسلیں سیاست کو واپس عوام کی فلاح کیلئے استعمال کر سکتی ہیں اور ہمارے ہاں سیاست کے کھوئے ہوئے مقام کو دوبارہ بحال کر سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں، آمین۔