Tameerewatan
tameerewatan

نیپال اور تبت میں قیامتِ صغریٰ، سیلاب نے 675 جانیں نگل لیں

نیپال اور تبت میں قیامتِ صغریٰ، سیلاب نے 675 جانیں نگل لیں

کھٹمنڈو / بیجنگ (نیوز ڈیسک) نیپال اور چین کے خودمختار علاقے تبت کی سرحد پر بدھ کے روز آنے والے قیامت خیز سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے تباہی کی ایسی خوفناک داستان رقم ہوئی ہے جس نے پورے خطے کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ تازہ ترین مقامی اور سرکاری رپورٹس کے مطابق ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 675 تک جا پہنچی ہے جبکہ 2,400 سے زائد افراد کا ابھی تک کچھ پتا نہیں چل سکا ہے۔

سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ نیپال ٹورازم بورڈ اور چینی میڈیا کے مطابق لاپتا ہونے والوں میں 23 مختلف ممالک کے 300 سے زائد غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں، جن میں برطانوی، بھارتی، امریکی اور جرمن شہری بھی شامل ہیں۔ اس ہنگامی صورتحال کے پیش نظر چینی اور نیپالی حکام نے متعلقہ غیر ملکی سفارت خانوں کو آگاہ کر دیا ہے تاکہ امدادی کاموں میں تیزی لائی جا سکے۔

تبت کے سرحدی علاقے گیئرونگ کاؤنٹی میں مٹی کے تودے گرنے سے پورٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور وہیں سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف، نیپال کی ڈیزاسٹر اتھارٹی نے بھوٹے کوشی دریا کے قریبی رہائشیوں کو سخت محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے، اگرچہ ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ سیلاب سے بننے والی عارضی جھیل کے پھٹنے کا خطرہ اب کسی حد تک ٹل چکا ہے۔

عالمی سطح پر اس بڑی تباہی کے بعد امریکہ نے متاثرین کے لیے 3.6 ملین ڈالر کی ہنگامی انسانی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ہزاروں خاندانوں کو ہنگامی راشن اور طبی سہولیات دی جائیں گی۔ دونوں ممالک میں ریسکیو ٹیمیں دن رات لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More